ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 58
حَى عَلَى الفلاح الله اكبر الله اكبر لا إله إلا الله مدینہ میں اسلام تیزی سے پھیلا اس کی سب سے بڑی وجہ آنحضور کی عاجزانہ دعائیں تھیں۔جو وہ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر لوگوں کی اصلاح کے لئے کرتے تھے۔پھر آپ کی قوت قدسیہ تھی یعنی اللہ تعالیٰ سے محبت کی وجہ سے آپ کے اندر ایسی پاکیزہ کشش پیدا ہوگئی تھی جو اچھے دلوں کو آپ کی طرف کھینچتی رہتی تھی اور جو ایک دفعہ آپ سے ملتا آپ کا ہوجا تا۔پھر یہ بھی کہ آپ کے متعلق سب کو علم تھا کہ بالکل اُمّی یعنی ان پڑھ ہیں مگر آپ اللہ تعالیٰ سے علم پا کر بڑی بڑی حقیقتیں بیان فرماتے اور اللہ تعالیٰ کے دئے ہوئے غیب کے علم سے ایسی پیشگوئیاں فرماتے جو بالکل اُسی طرح پوری ہو جاتیں آپ کی گفتگو میں اتنی کشش تھی کہ لوگ آپ کے گرویدہ ہو جاتے اور انداز ایسا تھا جو عام انسانوں کا نہیں ہوتا۔انداز میں الہام الہی کی طرز کو ایسے علماء پہچان لیتے جو الہی نوشتوں کا گہرا مطالعہ رکھتے تھے اُنہوں نے اپنی کتابوں میں پڑھ رکھا تھا کہ ایک عظیم نبی آنے والا ہے جب ہو بہو نشانیاں پوری ہوتے دیکھتے تو ایمان لے آتے۔قرآنِ کریم میں سورہ المائدہ آیات 83 تا 85 کا ترجمہ پڑھئے۔سب فرقوں میں سے مسلمانوں کی طرف زیادہ رغبت کرنے والے عیسائی ہیں کیونکہ ان میں بعض اہلِ علم اور راہب بھی ہیں جو تکبر نہیں کرتے اور جب خدا کے کلام کو جو اُس کے رسول پر نازل ہوا ہے سنتے ہیں تب تو دیکھتا ہے کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اس وجہ سے کہ وہ حقانیت کلام الہی کو پہچان جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدایا ہم ایمان لائے ہم کو ان لوگوں میں لکھ لے جو تیرے دین کی سچائی کے گواہ ہیں اور کیوں ہم خدا اور خدا کے بیچے کلام پر ایمان نہ 58