ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 55 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 55

ٹہنیوں کی چھت پڑی ہوئی ہے جب بارش ہوتی ہے تو اُس میں سے پانی ٹپک پڑتا ہے۔نماز پڑھتے ہیں تو اُن لوگوں کے گھٹنے اور ماتھے کیچڑ سے لت پت ہو جاتے ہیں اُس مسجد میں ننگی زمین پر بیٹھے ہوئے ایسے آدمی جن کے نہ سروں پر ٹو پیاں ہیں نہ اُن کے تن پر پورا لباس ہے دنیا کو فتح کرنے کا مشورہ کر رہے ہیں اور اس یقین اور وثوق کے ساتھ یہ باتیں کرتے ہیں کہ گویا دنیا کو فتح کرنا ان کے لئے معمولی بات ہے کیونکہ اُن کے نزدیک یہ خدا کا وعدہ ہے جو کبھی ٹل نہیں سکتا۔“ ( تفسیر کبیر جلد ہشتم صفحه 48) مکہ کے مہاجرین کو مدینہ میں اپنا وطن بہت یاد آتا وہ بے قرار ہو جاتے ایک تو اپنی بستی ، عزیز اقرباء ، مکان جائیدادیں گلی محلے چھوڑے دوسرے مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہ آئی مدینے میں اُن دنوں ملیریا بخار پھیلا ہوا تھا۔حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں۔جب رسول اللہ صلی ایلام مدینہ میں تشریف لائے تو ابو بکر اور بلال کو بخار ہو گیا میں اُن دونوں کے پاس گئی اور پوچھا ابا آپ کا کیا حال ہے اور پھر بلال سے پوچھا تمہارا کیا حال ہے ابوبکر بخار کی حالت میں یہ شعر پڑھتے كُلُّ امْرِيءٍ مُصبَحُ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنى مِنْ شِراكِ نَعْلِهِ ہر آدمی اپنے کنبے میں صبح اُٹھتا ہے۔سلامتی کی دعائیں دی جاتی ہیں اور حالت یہ ہوتی ہے کہ موت اُس کی جوتی کے تسمہ سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔اور بلال ” جب اُن کا بخار اتر جاتا تو زور زور سے روتے اور کہتے :۔اے کاش مجھے پتہ ہو۔آیا میں وادی مکہ میں ایک رات پھر بھی گزاروں گا اور میرے آس پاس اذخر اور جلیل گھاس ہو گی آیا میں کسی دن حجنہ کے پانیوں تک پہنچوں گا اور کیا شامہ اور طفیل 55