ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 54 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 54

مسجد کے ساتھ ہی آنحضور صلی ا یتیم کی رہائش کے لئے حجرہ بنایا گیا تھا یہ ایک چھوٹا سادس پندرہ فٹ کا حجرہ تھا جس کا دروازہ مسجد نبوی میں کھلتا تھا اس حجرے کی چھت کھجوروں کے پتوں سے ڈالی گئی تھی اور صرف اس قدر اونچی تھی کہ کوئی کھڑا ہو کر ہاتھ اُٹھائے تو چھو لے۔بعد میں آپ کی بیگمات کے لئے اس کے برابر میں حجرے تیار ہوتے رہے ان حجروں میں دروازے کی جگہ صرف کمبل یا موٹے پردے ہوتے تھے لکڑی کے کواڑ نہ تھے۔یہ مسجد اور پہلا حجرہ تیار ہونے میں سات ماہ کے قریب عرصہ لگا پھر آپ اپنی بیگم حضرت سودہ کے ساتھ اس میں منتقل ہو گئے۔مسجد نبوی کے ایک کونے میں ایک چبوترا بنایا گیا جس پر کھجور کے پتوں کی چھت تھی یہ غریب مہاجرین کے لئے سر چھپانے کی جگہ تھی چبوترے کو عربی میں صفہ کہتے ہیں اس پر رہنے والے اصحاب الصفہ کہلائے یہ خوش نصیب دن بھر عبادت کرتے قرآن شریف کی تلاوت کرتے اور آنحضرت صلی اسلم کے ارشادات سنتے ان کی کمائی کا کوئی ذریعہ نہ تھا آنحضور ان کا بہت خیال رکھتے کہیں سے کوئی تحفہ آتا تو ان کا حصہ بھجواتے بعض دفعہ گھر میں فاقہ ہو جاتا مگر ان کو کھانے کو کچھ بھجوا دیتے انصار کو بھی اپنے بھائیوں کا بہت خیال رہتا کھجوروں کے خوشے لا لا کر مسجد میں لڑکا دیتے یہاں مدرسہ کا کام بھی ہوتا۔تعلیم دی جاتی اور تعلیم لی جاتی یہ سلسلہ کئی سال چلتا رہا پھر ان لوگوں کے لئے کام ملنے لگا کچھ قومی بیت المال سے امداد ہو جاتی۔رہے۔حضرت ابوہریرہ " جن سے سب سے زیادہ حدیثیں روایت ہیں، بھی کچھ عرصہ یہاں ایک یورپین مصنف مدینہ کی اس حالت کو دیکھ کر ایسا متاثر ہوا کہ وہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے تم کچھ کہ لو مد سال اسلام اور اس کے ساتھیوں کو۔لیکن میں تو جب یہ بات دیکھتا ہوں کہ مدینہ میں ایک چھوٹی سی مسجد میں جس پر کھجوروں کی 54