ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 48
آنحضور صلی اسلم کی ہجرت میں ایک جیسی باتوں کا مقابلہ کرنے سے ہوتا ہے۔حضرت موسی کا شدید مخالف فرعون سمندر کی تہ میں ڈوب گیا جبکہ پاک نبی حضرت موسی کو اللہ تعالیٰ نے کوہ سینا، طور سینین پر اپنا جلوہ دکھایا۔اہل مکہ نے ظلم کئے اور پیارے نبی حضرت محمد مصطفی سنی سی ایتم کو مکہ چھوڑنا پڑا۔اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کو ذلیل و خوار کیا اور آپ کو مدینہ میں سر بلندی عطا فرمائی گویا کہ مدینہ آنحضور کیلئے کوہ سینا تھا۔( تفسیر کبیر جلد نهم صفحہ 172 سے استفادہ) اگر آپ ہجرت نہ کرتے تو اسلام کی اشاعت، حفاظت اور سر بلندی کا جو فرض آپ کو سونپا گیا تھا وہ ادا نہ کر سکتے۔سارے مکہ والے اسلام کے چراغ کو بجھانے کی کوششوں میں مصروف تھے آپ وہاں رہ کر کیا کرتے۔مکہ کی تیرہ سال کی محنت سے کتنے کا فرمسلمان ہوئے ؟ اور جو ہوئے بھی اُن میں سے چند حبشہ ہجرت کر گئے باقی ماندہ مظالم برداشت کرتے ہوئے کتنی تبلیغ کر لیتے مولا کریم نے اپنے پیارے محبوب نبی کو بڑی حفاظت سے مدینہ پہنچا دیا۔مدینہ آپ کے لئے ایک ایسا محفوظ مقام بن گیا جہاں سے آپ مدینہ میں ، پورے عرب میں بلکہ ساری وسطی دنیا میں اسلام کا پیغام پہنچانے لگے۔یہاں حضرت نوح سے مماثلت دیکھئے۔جسطرح نوح کو اپنے دشمنوں کی اذیت کے نتیجہ میں اپنا وطن چھوڑنا پڑا اسی طرح محمد رسول اللہ صلیہ السلام کو بھی مکہ والوں کی متواتر تکالیف اور ایذاء رسانیوں کے نتیجہ میں اپنا وطن چھوڑنا پڑا۔جس طرح نوح کی کشتی جودی پہاڑ پر جا کر ٹھہر گئی تھی جہاں نوح کو پناہ لی اور خدا تعالیٰ نے اس پر اپنے انعامات کی بارش نازل کی اسی طرح مدینہ بھی وہ جو دی تھا جہاں محمد رسول اللہ صلی یا اسلام اور آپ کے صحابہ کی کشتی لنگر انداز ہوئی اور جس طرح زیتون کی پتی کے ذریعے نوح کو اس کی جماعت کی آئندہ ترقی اور اس کی ایمانی ترقی کی بشارت دی گئی اسی طرح محمد رسول 48