ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 47 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 47

مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحه 350 حاشیہ) قادر خدا چاہے تو اپنے اپنے وطن میں حفاظت کے سامان فرما دے مگر وہ تعلیم خدا جانتا ہے کہ اُس کا بندہ کہاں زیادہ کام کر سکتا ہے۔وہیں لے جاتا ہے۔حضرت نوح ، حضرت لوط ، حضرت داؤد ، حضرت یعقوب ، حضرت یوسف ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی علیہم السلام سب نے ہجرت فرمائی۔فرق یہ ہے کہ ان انبیائے کرام کی ہجرت کے پھل اپنے اپنے علاقوں تک محدود تھے جبکہ آنحضور کی ہجرت کل انسانیت کے لئے پیغامِ امن بن گئی۔واقعات اور نتائج کے لحاظ سے آنحضرت کی ہجرت سب نبیوں سے زیادہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ہجرت سے ملتی جلتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں آپ کو حضرت موسیٰ کی مانند مثیل موسیٰ قرار دیا ہے۔حضرت موسیٰ نے فرعون کو پیغام حق دیا اُس کی نافرمانیوں پر اُسے بنی اسرائیل کے سامنے اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر دیا اور اُس کے ظلموں سے اپنے پیاروں کو نجات دی۔آنحضور صلی ا لی ہم نے تیرہ سالہ کی زندگی میں کفار کے ہاتھوں جو ظلم سہے وہ اُن سے زیادہ تھے جو فرعون نے بنی اسرائیل پر ڈھائے تھے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مصر سے ہجرت کی اور آپ کو مکہ جیسی پیاری بستی چھوڑنی پڑی فرعون نے جان سے مارنے کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پیچھا کیا آپ کو بھی قتل کرنے کے لئے آپ کا تعاقب کیا گیا پھر جس طرح فرعون اور اُس کا لشکر دریائے نیل میں غرق کئے گئے ابو جہل اور اُس کے ساتھی بڑے بڑے کفار مکہ جنگ بدر میں مارے گئے آپ نے ابو جہل کی لاش کو دیکھ کر فرمایا شخص اس اُمت کا فرعون تھا“ اللہ تعالیٰ نے مدینہ کو جو فضیلت دی ہے اُس کا ایک ثبوت حضرت موسیٰ کی ہجرت اور 47