ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 35 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 35

اپنی مدد آپ کے تحت ہونے والے اس پہلے کام کا مہاجرین مکہ اور مسلمانانِ مدینہ پر بہت اچھا اثر ہوا رسول اللہ سلینی ای ام نگرانی بھی فرما رہے تھے اور کام بھی کر رہے تھے مزدوروں کے ساتھ بغیر کسی امتیاز کے بغیر کسی ظاہری بڑائی کے اظہار کے آپ پتھر اُٹھا اُٹھا کر لا رہے تھے۔عرب کے معاشرے نے آقا اور غلام کا کلچر دیکھا ہوا تھاوہ اس انسان دوست نبی کو دیکھ کر حیران رہ گئے آپ پتھر اٹھاتے تو جاں نثار آگے بڑھ کر عرض کرتے ہمارے ماں باپ آپ پر قربان جائیں آپ چھوڑ دیں ہم اُٹھائیں گے آپ اُن کی درخواست سُن کر وہ پتھر چھوڑ بھی دیتے تو دوسرا اُس جیسا یا اُس سے بھی وزنی اُٹھا لیتے مسجد کی تعمیر کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول تھا اور وہ سب کو چاہئے تھی اس لئے سب ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔حضرت عبداللہ بن رواحہ ایک شاعر تھے اس موقعہ پر اُن کے اشعار نے بڑی رونق لگائی اور کام کرنے کا جذبہ بڑھایا آپ اونچی آواز سے پڑھتے أَفْلَحَ مَنْ يُعالج الْمَسَاجِدا کامیاب ہیں وہ جو مسجد تعمیر کرتے ہیں سب مل کر جواب دیتے ويقرء القرآن قائما وقاعدًا اور اٹھتے بیٹھتے قرآن پڑھتے ہیں پھر سب مل کر پڑھتے وَلَا يبيتُ اللَّيل عنه راقدا اور جو راتوں کو عبادت کے لئے جاگتے ہیں آنحضرت سال اسلم بھی ہر ہر قافیہ کے ساتھ اپنی آواز ملاتے تھے۔( وفاء الوفا بحوالہ ابن شبہ جلد 1 صفحہ 181) 35