ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 29
قیمت مقرر کی گئی تھی۔جس کی دعوت الی اللہ کو روکنے کے لئے پورا زور لگا دیا گیا تھا جس کے شہر والے اپنی اخلاقی بیماری کو سمجھتے تھے نہ کسی معالج مسیحا کی قدر تھی بلکہ اُسے جان سے مارنے کی پوری کوشش کی تھی۔وہ کیا حالات تھے جن کی وجہ سے مدینہ والے اس مہاجر رسول کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے تھے ان باتوں کو سمجھنے کے لئے مدینے کے حالات کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔مدینہ چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں میں گھری ہوئی ایک وادی ہے جو مکہ سے شمال کی طرف دو اڑھائی سومیل کے فاصلے پر بحر احمر کے مشرقی ساحل سے قریباً پچاس میل ہٹ کر واقع ہے۔یہاں گرمیوں میں شدید گرمی اور سردیوں میں شدید سردی پڑتی ہے۔اس کی زمین مکہ کی نسبت زرخیز ہے جس کی وجہ سے زراعت اور باغبانی ممکن ہے۔بہت پرانی بات ہے کئی سوسال پہلے عمالیق قوم کے لوگ اس علاقے میں آئے اور زمین کی زرخیزی کی وجہ سے یہاں آباد ہو گئے کھجوروں کے باغات لگانے لگے۔چھوٹے چھوٹے قلعے بنا کر اُن میں رہنے لگے اُن کے بعد بنی اسرائیل یہودی یہاں آکر آباد ہوئے۔یہودیوں کے تین بڑے قبیلے تھے بنو قینقاع، بنونضیر اور بنو قریظہ۔یہ قبیلے بھی اپنے اپنے قلعے بنا کر رہنے لگے۔تجارت، زراعت اور صنعت ان کے پیشے تھے یہ لوگ خوشحالی، تعلیم اور تمدن میں بہتر تھے اس لئے پورے علاقے میں ان کا اقتدار تھا۔پھر یمن کی طرف سے بنو قحطان کے دو قبیلے جو دو بھائیوں اوس اور خزرج کی اولاد تھے یہاں آکر آباد ہوئے اور مقامی لوگوں کے دستور کے مطابق قلعے بنا کر رہنے لگے۔یہودیوں کو اقتدار حاصل تھا اس لئے اوس اور خزرج قبائل کو دبا کے رکھتے تھے۔اس دباؤ اور ظلم سے تنگ آکر انہوں نے قریبی ریاست عنسان کے بادشاہ سے مدد لے کر ہوشیاری کے ساتھ بڑے بڑے یہودیوں کو قتل کروا دیا۔اس طرح یہودی کمزور ہو گئے اوس و خزرج طاقتور ہو گئے۔مگر ایک بڑی بات یہ ہوئی کہ طاقت پکڑتے ہی آپس میں لڑنے لگے اور لڑتے لڑتے اتنے کمزور ہو گئے کہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے یہودیوں کی مدد مانگی۔یہودی تو پہلے 29