ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 24
طرح بیان کیا ہے۔” میں نے ایک نیزہ لیا اور گھر کی پشت کی طرف سے ہو کر چپکے سے نکل گیا اور گھوڑے کو تیز کر کے محمد سایش ایتم ) اور ان کے ساتھیوں کے قریب پہنچ گیا۔اس وقت میرے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور میں زمین پر گر گیا لیکن میں جلدی سے اُٹھا اور اپنا ترکش نکال کر میں نے ملک کے دستور کے مطابق تیروں سے فال لی۔فال میرے منشاء کے خلاف نکلی۔مگر (اسلام کی عداوت کا جوش اور انعام کا لالچ تھا میں نے فال کی پرواہ نہ کی۔اور پھر سوار ہو کر تعاقب میں ہولیا اور اس دفعہ اس قدر قریب پہنچ گیا کہ آنحضرت ﷺ کی جو اس وقت قرآن شریف کی تلاوت کرتے جارہے تھے ) قرآت کی آواز مجھے سنائی دیتی تھی۔اس وقت میں نے دیکھا کہ آنحضرت سال میں یہ تم نے ایک دفعہ بھی منہ موڑ کر پیچھے کی طرف نہیں دیکھا مگر ابوبکر آنحضرت کے فکر کی وجہ سے ) بار بار دیکھتے تھے۔میں جب ذرا آگے بڑھا تو میرے گھوڑے نے پھر ٹھوکر کھائی اور اس دفعہ اس کے پاؤں ریت کے اندر دھنس گئے اور میں پھر زمین پر آرہا۔میں نے اُٹھ کر گھوڑے کو جو دیکھا تو اس کے پاؤں زمین میں اس قدر دھنس چکے تھے کہ وہ انہیں زمین سے نکال نہیں سکتا تھا۔آخر بڑی مشکل سے وہ اُٹھا اور اس کی اس کوشش سے میرے اردگر دسب غبار ہی غبار ہو گیا۔اس وقت میں نے پھر فال لی اور وہی فال نکلی۔جس پر میں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔اور آنحضرت سلایا کہ ہم اور آپ کے ساتھیوں کو صلح کی آواز دی۔اس آواز پر وہ ٹھہر گئے اور میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر اُن کے پاس پہنچا۔اس سرگذشت کی وجہ سے جو میرے ساتھ گذری تھی میں نے یہ سمجھا کہ اس شخص کا ستارہ اقبال پر ہے اور یہ کہ بالآخر آنحضرت غالب رہیں گے؛ چنانچہ میں نے صلح کے رنگ میں ان سے کہا کہ آپ کی قوم نے آپ کو قتل کرنے یا پکڑ لانے کے لئے اس اس قدر انعام مقرر کر رکھا ہے اور لوگ آپ کے متعلق ارادہ رکھتے ہیں اور میں بھی اسی ارادے سے آیا تھا مگر اب میں واپس جاتا ہوں اس کے بعد 24