ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 15
کروادیا کہ جو محمد کو زندہ یا مردہ پکڑ کر لائے گا اُس کو ایک سو اونٹ انعام میں دئے جائیں گے۔سو اونٹوں کا انعام مکہ میں سب سے بڑا انعام سمجھا جاتا تھا۔لوگوں میں جوش تو تھا ہی اب بڑے انعام کا لالچ بھی شامل ہو گیا لوگ شہر کے اندر اور باہر تلاش میں لگ گئے۔ایک گروہ نے بڑی ہوشیاری سے کام لیا اپنے ساتھ چند کھو جی لے لئے۔پہلے زمانے میں چوروں اور مجرموں کو کھوجیوں کی مدد سے تلاش کیا جاتا تھا جو پیروں کے نشانوں پر چلتے چلتے مجرم تک پہنچ جاتے۔کفار کو جب علم ہوا کہ رسول کریم کہیں باہر چلے گئے ہیں تو وہ تعاقب کرتے ہوئے غارِ ثور کے منہ پر پہنچ گئے۔وہاں انہوں نے ڈیرہ ڈال دیا کھو جی اُن کے ساتھ تھا اُس نے کہا بس یہیں تک نشانات پہنچتے ہیں اب یا تو محمد سلمانی اینم یہیں کہیں چھپا ہوا ہے اور اگر یہاں نہیں تو پھر وہ آسمان پر چڑھ گیا ہے۔عرب لوگ کھوجیوں کی بات پر بڑا اعتبار کیا کرتے تھے اور وہاں کے کھوجی اپنے فن میں بہت ماہر ہوا کرتے تھے۔ہمارے ملک میں بھی ایسے کھو جی ہوتے ہیں جو بعض دفعہ چوری کا سُراغ لگا لیتے ہیں مگر ہمارے کھو جی بہت ادنیٰ ہوتے ہیں عرب کے کھوجی وہاں کے خاص حالات کے ماتحت بہت اعلیٰ درجہ کی مہارت رکھتے تھے چنانچہ وہ کھوجی جسے مکہ والے ساتھ لے گئے تھے اُس نے صاف صاف کہہ دیا کہ محمد صلای شما اینم ) اسی جگہ معلوم ہوتے ہیں لوگوں نے کہا یہاں چھپنے کی کون سی جگہ ہے؟ اُس نے کہا کہ اگر یہاں نہیں ہیں تو پھر آسمان پر چلے گئے ہیں اُس کی بات سُن کر سب ہننے لگ گئے اور کہنے لگے ہمارا کھوجی تو آج پاگل ہو گیا ہے کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے بھلا یہ بھی کوئی چھپنے کی جگہ ہے اس غار کے منہ پر درخت کی شاخیں جھکی ہوئی ہیں اور اُن پر مکڑی کا جال بنا ہوا ہے اگر وہ اندر جاتے تو جالا نہ ٹوٹ جاتا۔“ ( تفسیر کبیر جلد ہشتم صفحه 511 تا512) 15