لُجَّةُ النّوْر — Page iv
کرنے کے لئے ضرورت زمانہ کو بطور دلیل پیش فرمایا ہے۔اپنے الہام الہی سے مشرف ہونے اور اپنے زمانہ کے حالات کا شرح وبسط سے ذکر فرمایا ہے۔عالم اسلامی کی دینی اور دنیوی ابتر حالت کا نہایت المناک نقشہ کھینچا ہے اور پادریوں کے حملوں کا ذکر کر کے یہ خوشخبری دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھوں پر انہیں شکست فاش دی ہے اور وہ میدان سے بھاگنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور فرمایا الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا كَانُوا يَصُولُونَ عَلَى الإسلام “ (لجة النور صفحه ۱۳۹) یعنی آج اسلام پر حملہ آور کفار نا امید ہو گئے ہیں۔اور تحدیث نعمت کے طور پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مصلحین کی تمام شرائط مجھ میں جمع کر دی ہیں اور اس نے مجھے ہر قسم کی برکات سے نوازا ہے اور میری ہر آرزو پوری کی اور ہر قسم کی دینی و د نیوی نعمتوں سے مجھے مالا مال کیا ہے۔اس کتاب میں آپ نے اس بہتان کی بھی تردید فرمائی ہے کہ نعوذ باللہ آپ نے اپنی کتب میں صالح علماء کی ہتک کی ہے۔چنانچہ فرمایا ”ہم نیک اور صالح علماء اور مہذب شرفاء کی بہتک سے خدا تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں خواہ وہ مسلمان ہوں یا آریہ یا عیسائی یا کسی اور مذہب کے ہوں۔