لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 66 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 66

لجَّةُ النُّور 44 ۶۶ اردو ترجمہ بأنوار جماله فأعرضتُ اور اُس نے مجھے اپنے جمال کے انوار سے متمتع عن أعدائى وأعدائه۔وإنه نوع فرمایا۔پس میں نے اپنے دشمنوں اور اُس کے عنى ثياب الوَسَخ والدَّرَن دشمنوں سے اعراض کیا۔اُس نے مجھ سے میلے ثم ألبسنى حُلَلَ النور واصطفانی کپڑے اور آلائشیں دور کر دیں۔پھر مجھے نور کے لِذَاتِه في هذا الزمن، وما أبقى لى لبادے پہنائے اور اس زمانہ میں مجھے اپنی ذات غيره وهذا أعظم المنن و من کے لئے چن لیا کہ میرے لئے اس کے علاوہ کوئی (۶۰) آلائه أنه شرح صدری و کمّل باقی نہ رہا اور یہ سب سے بڑا احسان ہے، اور اس کی بدرى، فما أصابني ضجر قط نعمتوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے میرا سینہ کھول لأفكار الدنيا وهجومها و دیا اور میرے بدر کو مکمل کیا۔پس مجھے دنیا کے فکروں ما أحس أحد كآبة على وجھی اور اس کے جھمیلوں سے کبھی قلق لاحق نہیں ہوا۔اور وجبيني لِهُمُومِها وعمومها۔کبھی بھی کسی نے میرے چہرے اور میرے ماتھے وإنه جعلنی مسیح موعودًا پر دنیا کے ہم و غم کی افسردگی محسوس نہیں کی۔اس نے ومهديا معهودًا، ففرط مجھے مسیح موعود اور مہدی معہود بنایا تب علماء مجھ پر العلماء على وقالوا مزوّر کذاب، ٹوٹ پڑے اور کہنے لگے کہ یہ جھوٹا اور کذاب ہے اور و آذوني من كل باب وكذبونی ہر جہت سے مجھے اذیت پہنچائی۔میری تکذیب کی، وفسقوني وجهلوني وما خافوا مجھے فاسق اور جاہل قرار دیا۔اور انہوں نے يوم الحساب۔و سربوا إلى جهة روز حساب کا کوئی خوف نہ کیا۔وہ ایک ہی طرف کو وما تدبّروا الأحاديث وما في چل پڑے، نہ تو انہوں نے احادیث پر غور کیا اور نہ ہی الكتاب۔وجُذب القوم إلى هذه قرآن پر۔اور (مسلمان) قوم ان شور مچانے والوں الصائتين و ما استقروا طرق کی طرف کھنچی چلی گئی اور انہوں نے سیدھی راہ تلاش الصواب۔وفرضوا لهم من نہ کی۔اور انہوں نے اپنے مالوں اور عطیات میں أموالهم وشيوبهم ليداوموا علی سے ان کے لئے ( کچھ حصہ ) معین کر دیا تا کہ وہ