لُجَّةُ النّوْر — Page 45
لجَّةُ النُّور 은 ۴۵ اردو ترجمہ بالكرامات، فإنها قد شابهها في كرامات سے باطل ٹھہرتے ہیں کیونکہ اپنے صور ظهورها على وجه الخرق خارق عادت اور فوق العادت ہونے کی وجہ وكونها فوق العادات۔فلا شك سے یہ کرامات اپنے ظہور کی صورتوں میں أن هذا الوهم باطل بالبداهة ومن معجزات کے مشابہ ہیں۔پس اس میں کوئی شک ۳۹ قبيل الأغـلـوطات ولا يزعم نہیں کہ یہ وہم بالبداہت باطل اور مغالطوں كمثل هذا إلا الغبي الذي ذهب کی قسم ہے۔اور اس طرح کا خیال کسی کے زعم عـقـلـه بسيل التعصبات۔وليس میں آہی نہیں سکتا سوائے ایسے کند ذہن کے عندنا جواب قريحة جامدة جس کی عقل تعصبات کی رو میں بہہ گئی وفطنة خامدة ، ولا حاجة إلى ہو۔ہمارے پاس اس طرح کی جامد طبیعت ردّ هذه الخرافات۔ولو كان اور بجھی ہوئی ذہانت کا کوئی جواب نہیں اور لهذا الاعتراض مورد من موارد نہ ہی اُن کی خرافات کے رڈ کرنے کی الصواب، فكان من الواجب کوئی ضرورت ہے۔اگر فصاحت و بلاغت أن يمنع رسول الله صلى الله قابل اعتراض بات ہوتی تو ضروری تھا کہ عليه وسلم صحابته من تكلمهم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سدِ باب ببلاغة البيان وفصاحة التبیان کے لئے اپنے صحابہ کو بلیغ بیان اور فصیح تقاریر سداللباب، ولكن الرسول سے منع فرما دیتے۔لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ صلى الله عليه وسلم ما منعهم وسلم نے نہ اُن کو منع فرمایا اور نہ اس عادت وما أشار إلى أن ينتهوا من سے باز رہنے کی طرف اشارہ فرمایا اور نہ ہی هذه العادة، وما ندّد بأنه من اعلان فرمایا کہ یہ منہیات شریعت میں سے ہے مناهي الشرع لما فيه رائحة اس لئے کہ اس میں سے شراکت کی بو آتی ہے بلکہ من الشركة، بل حث عليه في کئی مواقع پر آپ نے اس کی ترغیب دی پس وہ مواضع فما استقالوا منه | (صحابہ کرام ) اس بات سے دست بردار نہ ہوئے