لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 21 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 21

لُجَّةُ النُّور ۲۱ اردو ترجمہ دينهم ولو يُهَدِّ أركانه وتُهدَّم نہیں کرتے خواہ اُس کے ستونوں کو گرا دیا جائے جدرانه ويكرهون أن اور اُس کی دیواروں کو منہدم کر دیا جائے۔وہ ناپسند يُظهروا على أبدانهم شعار کرتے ہیں کہ شعار اسلام اپنے جسموں پر ظاہر الإسلام، ويحبّون أن يلبسوا کریں بلکہ وہ تو یہ پسند کرتے ہیں کہ اہل کفر لباس أهل الكفر وعبدة الأصنام اور بُت پرستوں کے لباس میں ملبوس ہوں۔تركوا فريضة الصلوة وصيام انہوں نے فریضہ نماز اور رمضان کے روزوں کو رمضان ولا يحضرون المساجد ترک کر دیا ہے۔اور باوجود اذان سننے کے وہ وإن سمعوا الأذان، بل يكره مسجدوں میں حاضر نہیں ہوتے۔بلکہ اکثر متکبر أكثر ذى مخيلة أن يبرزوا (تو یہ بھی ) نا پسند کرتے ہیں کہ عید کی نماز ادا کرنے للتعييد، وما ترى فيهم مِن سُنن کے لئے باہر نکلیں۔تو نئے کپڑے پہنے کے سوا اُن العيد إلا لبس الجديد وتری میں (اسلامی) عید کی کوئی سنت نہ پائے گا۔اور تو أكثرهم اعتضد واقِرُبةَ دیکھے گا کہ اُن میں سے اکثر نے ملحدوں کی مشک کو الملحدين۔واستفادوا لِسِيرِ اپنے بازوؤں میں لے لیا ہے اور کافروں کی سیرت کو الكافرين۔وحسبوا أن الوصلة اپنا اُسوہ بنالیا ہے۔اور انہوں نے یہ گمان کر رکھا ہے إلى الدولة طرق الاحتيال کہ حکومت تک پہنچنے کا ذریعہ حیلہ سازی، ناز و نخوت والاختيال والإباحة، وأفتاهم اور اباحت ہے۔ان کے افکار نے انہیں یہ فتویٰ دیا فكرهم بأن الفوز فى المكائد ہے کہ کامیابی مکروفریب میں ہی ہے۔پس وہ فيستقرونها ويرصدون مواضعها (مکروں) کی تلاش میں رہتے ہیں اور شکاری کی كالصائد۔ومنهم قوم يستو كفون طرح ان کے مناسب مواقع کی گھات میں رہتے الأكف بالوعظ والنصيحة ہیں۔اور ان میں سے ایک ایسی قوم بھی ہے جو علماء کی ۱۸ كالعلماء ويطلبون الصيد طرح وعظ و نصیحت سے لوگوں کی ہتھیلیوں سے بتقمص لباس الفقهاء ، ويأمرون سخاوت کے طالب ہیں۔اور فقہاء کا لباس پہن کر