لُجَّةُ النّوْر — Page 17
لُجَّةُ النُّور ۱۷ اردو ترجمہ الفانيات، وكلما استكثروا جب کبھی بھی انہوں نے اس (دنیا) کی فيها و ازداد حرصهم کثرت چاہی اور ان کی اس میں حرص اور عليها وشحهم بهارجعوا خائبين طمع بڑھی تو وہ ہمیشہ اپنی مرادیں کامیابی غیر فائزين إلى المرادات۔ سے حاصل کیے بغیر نا کام اور خائب و خاسر وما كانت عاقبة أمرهم إلا لوٹے ۔ ان کے اس امر کا انجام سوائے الضنك في المعيشة، وانتياب رزق میں تنگی اور بار بار روح کو اذیت الأذى على المهجة ۔ وما نفعهم پہنچنے کے اور کچھ نہیں ۔ ان کے دنیا کی خاطر كذبهم و كيدهم وصخبهم جھوٹ ، سازشوں اور شور وشغب نے انہیں لدنياهم واستأصل الله الراحة کچھ فائدہ نہ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے من قلوبهم، وأزال اضطجاع دلوں سے راحت کھینچ لی اور امن کا قرار الأمن من جنوبهم وتركهم فی ان کے پہلوؤں سے دور کر دیا اور دین أنواع الغم والتشوشات مع سے تغافل اور گمراہیوں کے ساتھ ساتھ التغافل من الدين والضلالات و انہیں گونا گوں غموں اور تشویشوں میں ما بقى لهم ذوق في المناجاة ، چھوڑ دیا ۔ ان کے لیے دعاؤں میں ذوق ولا تلذذ في العبادات اور عبادات میں لذت باقی نہ رہی ۔ پس فحاصل الكلام أن الناس فى حاصل کلام یہ کہ ہمارے اس زمانہ میں زماننا هذا قد انقسموا لوگ دو قسموں میں تقسیم ہو گئے ہیں ، اور إلى قسمين، ولحق كل قسم رب دو جہاں کی مشیت سے ہرقسم کو مرض مرض بقدرِ ربّ الكونين لاحق ہو گیا ہے ۔ پس پہلی قسم قوم نصاری فالقسم الأول قوم النصارى، و ہے ، تو انہیں دیکھتا ہے کہ وہ دنیا کی خاطر تراهم للدنیا کالسکاری و مدہوش کی طرح ہیں اور مخلوق کی پرستش في عبادة المخلوق کالاساری، میں قیدیوں کی طرح ۔ اور دوسری قسم