لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 121

لجة النُّور ۱۲۱ اردو ترجمہ لفظ كالكلاب و یزعم نفسه کتوں کی طرح اپنی کچلیاں تک نکال لیتا ہے اور ( ۱۴ ) عـلـــى الـصـحـة والـصـواب۔اپنے آپ کو برحق اور صحیح خیال کرتا ہے۔اسی طرح وكذالك يزعم هذا الرجل مرة کبھی یہ شخص خیال کرتا ہے کہ وہ اطباء میں سے أنه من الأطباء ، وفاق الكلّ في ہے، اور مرض کی تشخیص کرنے اور دوا تجویز کرنے تشخيص الداء وتجويز الدواء۔میں سب پر فوقیت رکھتا ہے۔اور بعض اوقات ويبرز طورًا فى زى الفقهاء ، فقہاء کے لبادہ میں ظاہر ہوتا ہے، اور کبھی اس ويشير حينًا إلى أنه ظفر بنسخة طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ نسخہ کیمیاء حاصل الكيمياء ثم إذا فتن فی موطن کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔پھر جب فرسان اليراعة، وأرباب البراعة، سواران قلم اور ارباب فضل و ہنر کے میدان میں فثبت أنه لا يقدر على أن ينقح آزمایا جائے تو ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ یہ بھی الإنشاء ، ويتصرف فيه كيف قدرت نہیں رکھتا کہ درست تحریر لکھ سکے اور اس شاء، بل يظهر أنه أعجَمُ میں جس طرح چاہے تصرف کر سکے ، بلکہ یہ ظاہر ويضـاهـي الـعـجـماءَ، ولا يعلم ہوتا ہے کہ وہ گونگا ہے اور چوپایوں سے مشابہ ما الأدب ولا يدرى هذه الطريقة ہے اور نہیں جانتا کہ ادب کیا ہے اور اس روشن الغراء ثم إذا عُرض عليه طریقے سے بے خبر ہے۔پھر جب اُس کے المرضى للمداواة ، كما ادعى سامنے علاج کی غرض سے مریضوں کو پیش کیا في بعض الأوقات، فما كان ان جائے جیسا کہ وہ بعض اوقات دعوی کیا کرتا تھا تو يفرق بين السكتة والسبات اُس کو اتنی بھی استطاعت نہیں ہوتی کہ سکتہ اور وربما يحسب الدقَ لَفِقةً، نیند میں فرق کر سکے۔بسا اوقات وہ تپ دق کو وانطباق المَرِيءِ ذبحةً، ويسمى بلغمی بخار اور انطباق مری کو ذبحہ خیال کرتا السَبَلَ سُلاقًا، وضيق النفسِ ہے اور سَبَل (آشوب چشم ) کو سلاق ( پلکوں حُنّاقًا، ويستعمل في مواضع کا جھڑنا ) اور دمہ کو خناق کا نام دیتا ہے۔بدن کو گلے کی نالی میں سوزش ہو کر اس کا تنگ ہو جانا (Angina Pectoris) کے فریحہ صدر یہ سوزش سینہ، سینے کا درد