لباس — Page 56
58 میاں بیوی کے حقوق و فرائض چاہئے۔جس طرح عقل مند کسان سوچ سمجھ کر کھیتی سے کام لیتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کس حد تک اس میں بیج ڈالنا چاہئے۔اور کس حد تک کھیت سے فصل لینی چاہئے۔اسی طرح تمہیں کرنا چاہئے۔اس آیت سے یہ بھی نکل آیا کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہر حالت میں اولاد پیدا کرنا ہی ضروری ہے، کسی صورت میں بھی برتھ کنٹرول جائز نہیں وہ غلط کہتے ہیں۔کھیتی میں سے اگر ایک فصل کاٹ کر معا دوسری بودی جائے تو دوسری فصل اچھی نہیں ہوگی۔اور تیسری اس سے زیادہ خراب ہوگی۔اسلام نے اولاد پیدا کرنے سے روکا نہیں بلکہ اس کا حکم دیا ہے۔لیکن ساتھ ہی بتایا ہے کہ کھیتی کے متعلق خدا کے جس قانون کی پابندی کرتے ہو اسی کو اولاد پیدا کرنے میں مدنظر رکھو جس طرح ہو شیار زمیندار اس قدر زمین سے کام نہیں لیتا کہ وہ خراب اور بے طاقت ہو جائے یا اپنی ہی طاقت ضائع ہو جائے اور کھیت کاٹنے کی بھی توفیق نہ رہے یا کھیت خراب پیدا ہونے لگے اسی طرح تمہیں بھی اپنی عورتوں کا خیال رکھنا چاہیئے۔اگر بچہ کی پرورش اچھی طرح نہ ہوتی ہو اور عورت کی صحت خطرہ میں پڑتی ہو تو اس وقت اولا د پیدا کرنے کے فعل کو روک دو۔تیسری بات یہ بتائی کہ عورتوں سے اچھا سلوک کرو تو اولاد پر اچھا اثر ہوگا۔اور اگر ظالمانہ سلوک کرو گے تو اولا د بھی تم سے بے وفائی کرے گی۔پس ضروری ہے کہ تم عورتوں سے ایسا سلوک کرو کہ اولا دا چھی ہو۔اگر بدسلوکی سے کھیت خراب ہوا تو دانہ بھی خراب ہوگا۔یعنی عورتوں سے بدسلوکی اولاد کو بداخلاق بنادے گی۔کیونکہ بچہ ماں سے اخلاق سیکھتا ہے۔۔۔۔پس آٹی شِئْتُم میں تو اللہ تعالیٰ نے ڈرایا ہے کہ یہ تمہاری کھیتی ہے اب جس طرح چاہو سلوک کرو لیکن یہ نصیحت یاد رکھو کہ اپنے لئے بھلائی کا سامان ہی پیدا کرنا ورنہ اس کا خمیازہ بھگتو گے۔یہ ایک طریق کلام ہے جو دنیا میں بھی رائج ہے۔مثلاً ایک شخص کو ہم رہنے کے لئے مکان دیں اور کہیں