کتاب اللہ کا فیصلہ — Page 39
۲۹ مفت تقسیم کیا گیا ہے اور بعض سے پانچ روپیہ اور بعض سے آٹھ آنتیک قیمت لی گئی ہے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں جن سے دس روپے لئے گئے ہوں اور جن سے پچیس روپے لئے گئے وہ چند آدمی ہیں۔پھر۔۔۔۔۔۔دہ مرتبہ اشتہار د سے دیا کہ جو شخص براہین احمدیہ کی قیمت واپس لینا چلا ہے وہ مہاری کیا میں ہمارے حوالے کرے اور اپنی قیمت سے لے چنانچہ وہ تمام لوگ جو اس قسم کی جہالت اپنے اندر رکھتے تھے انہوں نے کتاب میں بھیج دیں اور قیمت واپس لے لی۔اور بعض نے کتابوں کو بہت تعریب کر کے لے لی۔بھیجا مگر پھر بھی ہم نے قیمت دے دی۔" اشتهار شموله ایام التقرين) سوم۔حضور نے اپنی وفات سے دو برس قبل برای احمدیہ حصتہ پیچی شا فرمائی جس میں بالوضاحت تحریر فرمایا : چار تھے اس کتاب کے جو طبع ہو چکے تھے۔کچھ تو مختلف قیمتوں پر فروخت کئے گئے تھے اور کچھ ملت تقسیم کئے گئے تھے۔بیس چین لوگوں نے قیمتیں دی تھیں۔اکثر نے گالیاں بھی دیں اور اپنی قیمت بھی واپس لی " براین احمدیه حصه بحجم صفحه به طبع معلول) جہاں تک پانچ کو یہ اس قرار دینے کا تعلق ہے۔یہ در اصل بخاری شریف کی اسی مدیر قدیمی کی طرف تعریف اشارہ ہے جس میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج میں مخاطب کر کے فرمایا : هِيَ خَمْسَ وَهِيَ خَمْسُونَ" (بخاری کتاب الصلواة جلد ا صفحماه مصری)