کتاب اللہ کا فیصلہ

by Other Authors

Page 35 of 48

کتاب اللہ کا فیصلہ — Page 35

موعود شخصیت کی آمد کے ابھی منظر میں ثابت ہوا کہ بنیادی نزاع ختم نبوت کا نہیں تعین شخصی کا ہے۔تناقص کے الزام کی حقیقت یہ اعتراض بھی اٹھایا جاتا ہے کہ اپنے دعوی کی نسبت بانی سلسلہ احمدیہ کی تحریرات میں تضاد پایا جاتا ہے کہیں اپنے تین غیر نبی لکھا ہے اور کہیں نہیں۔حق یہ ہے کہ حضرت اقدس نے اللہ سے لے کہ آخر دم تک آیت هر انسانی ارسل رسوله الخ کے مصداق ہونے سے کبھی انکار نہیں کیا۔البتہ رسالت : نبوت کی دو تعریفوں کو مد نظر رکھ کر جن میں سے پہلی رسمی اور دوسری الہامی و قرآنی تھی دو الگ الگ زاویہ نگاہ پیش کرتے ہیں۔جیسا کہ آپ خود ہی فرماتے ہیں : جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعیت لانے وان نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پاکر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے۔رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعیت کے ایسی طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔" یک غلطی کا ازالہ ) اس کے ساتھ ہی ہمیشہ آپ نے یہ وضاحت فرمائی ہے :- یہ بات بھی ضرور یاد رکھنی چاہئیے اور ہرگز نہیں فراموش کرنی چاہیئے کہ