کتابِ تعلیم

by Other Authors

Page 53 of 162

کتابِ تعلیم — Page 53

۵۳ رائیگان نہیں جاتی ، میں اس قدر دوڑ دھوپ اور سرگرمی نہیں پاتا ہوں یہ لوگ کیوں نہیں سمجھتے وہ کیوں نہیں ڈرتے کہ آخر ایک دن مرنا ہے۔کیا وہ ان ناکامیوں کو دیکھ کہ بھی اس تجارت کی فکر میں نہیں لگ سکتے جہاں خسارہ کا نام و نشان ہی نہیں اور نفع یقینی ہے۔زمیندارہ کس قدر محنت سے کاشتکاری کرتا ہے۔مگر کون کہہ سکتا ہے کہ نتیجہ ضرور راحت ہی ہوگا۔اللہ تعالیٰ کیسا رحیم ہے اور یہ کیسا خزانہ ہے کہ کوڑی بھی جمع ہو سکتی ہے روپیہ اشرفی بھی۔نہ چور چکار کا اندیشہ نہ یہ خطرہ کہ دیوانہ نکل جائے گا۔حدیث میں آیا ہے کہ اگر کوئی ایک کا نشا راستہ سے ہٹا دے تو اس کا بھی ثواب اس کو دیا جاتا ہے۔اگر پانی نکالتا ہوا اگر ایک ڈول اپنے بھائی کے گھڑے میں ڈال دے نہ خدا تعالی اس کا بھی اجر ضائع نہیں کرتا۔پس یاد یہ کھو کہ وہ راہ جہاں انسان کبھی ناکام نہیں ہو سکتادہ خدا کی راہ ہے۔دنیا کی شاہراہ ایسی ہے جہاں قدم قدم پر ٹھوکریں اور نا کا میوں کی چٹانیں ہیں۔وہ لوگ جنہوں نے سلطنتوں تک کو چھوڑ دیا آخر بے وقوف تو نہ تھے۔جیسے ابراہیم ادھم۔شاہ شجاع۔شاہ عبد العزیز جو مجد بھی کہلاتے ہیں۔حکومت سلطنت اور شوکت دنیا کو چھوڑ بیٹھے۔اس کی یہی وجہ تو تھی کہ ہر قدم پر ایک ٹھو کر موجود ہے۔خدا ایک موتی ہے اس کی معرفت کے بعد انسان دنیاوی اشیاء کو ایسی حقارت اور ذلت سے دیکھتا ہے کہ ان کے دیکھنے کے لئے بھی اُسے طبیعت پر ایک جبر اور کراہ کرنا پڑتا ہے۔پس خدا تعالی کی معرفت چاہو اور اس کی طرف ہی قدم اٹھا کر کامیابی اسی میں ہے "