کتابِ تعلیم

by Other Authors

Page 29 of 162

کتابِ تعلیم — Page 29

۲۹ احکام کی بجا آوری کی راہ کی روکولی سے بیچ کر انہیں عملی زنگ میں دکھائے۔یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں دو قسم کے مادے رکھتے ہیں۔ایک سمتی مادہ ہے جس کا موکل شیطان ہے اور دوسرا تریاتی مادہ ہے جب انسان تکبر کرتا ہے اور اپنے تئیں کچھ سمجھتا ہے اور تریاقی چشمہ سے مدد نہیں لیتا تو سمتی قوت غالب آجاتی ہے۔لیکن جب اپنے تئیں ذلیل و حقیر سمجھتا ہے اور اپنے اندر اللہ تعالے کی مدد کی ضرورت محسوس کرتا ہے اس وقت اللہ تعالٰی کی طرف سے ایک چشمہ پیدا ہو جاتا ہے جسے اس کی روح گدا نہ ہو کہ یہ نکلتی ہے۔اور یہی استغفار کے معنی ہیں۔یعنی یہ کہ اس قوت کو پا کہ نہ ہریلے مواد پر غالب اجا د ہے۔غرض اس کے معنی یہ ہیں کہ عبادت پر یوں قائم رہو۔ادل رسول کی اطاعت کرو۔دوسرے ہر وقت خدا سے مدد چاہو۔ہاں پہلے اپنے رب سے مدد چاہو۔جب قوت مل گئی۔تو تُوبُوا لَيْهِ یعنی خدا کی طرف رجوع کرد - استغفار اور تو بہ دو چیزیں ہیں۔ایک وجہ سے استغفار کو تو بہ پر تقدم ہے کیوں کہ استغفار مدد اور قوت ہے جو خدا سے حاصل کی جاتی ہے۔اور تو یہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونا ہے۔عادۃ اللہ یہی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے مدد چاہے گا۔تو خدا تعالیٰ ایک قوت دے دے گا اور پھر اس قوت کے بعد انسان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جاوے گا اور نیکیوں کے کرنے کے لئے اس میں ایک قوت پیدا ہو جاوے گی جس کا نام تو بوا اکیہ ہے۔اس لئے طبعی طور پر بھی یہی ترتیب ہے۔غرض اس میں ایک طریق ہے جو سالکوں کے لئے رکھا ہے کہ سالک ہر حالت میں خدا