کتابِ تعلیم — Page 23
۲۳ انسان کی پیدائش کی معیت نمائی عبادت ہے " اَلا تَعْبُدُوا إِلَّا الله خداتعالی کے سوا ہرگز ہرگز کسی کی پرستش نا کرد - اصل بات یہ ہے کہ انسان کی پیدائیش کی علت غائی یہی عبادت ہے۔جیسا دوسری جگہ فرمایا۔ومَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبَدُونَ (الدویت آیت : 04) عبادت اصل میں اس کو کہتے ہیں کہ انسان ہر قسم کی قیادت کچھی کو دور کر کے دل کی زمین کو ایسا صات بنا دے جیسے زمیندار زمین کو صاف کرتا ہے۔عرب کہتے ہیں مور معاد جیسے سرمہ کو باریک کر کے آنکھوں میں ڈالنے کے قابل بنا لیتے ہیں۔اسی طرح جب دل کی زمین میں کوئی کنکر نا ہمواری نا رہے اور ایسی صاف ہو کہ گویا روح ہی روح ہو اس کا نام عبادت ہے۔چنانچہ اگر یہ درستی اور صفائی آئینہ کی کی جاد سے تو اس میں شکل نظر آ جاتی ہے۔اور اگر زمین کی کی جاوے تو اس میں انواع واقسام کے پھل پیدا ہو جاتے ہیں۔پس انسان جو عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔اگر دل صاف کر سے اور اس میں کسی قسم کی کبھی اور ناہمواری کنکر پتھر نا رہنے دے تو اس میں خدا نظر آئے گا۔إنَّنِي تَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرة (سوره هود (۳) میں پھر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے درخت اس میں پیدا ہو کر نشو و نما پائیں گے۔اور وہ اثمار شیرین و طیب ان میں لگیں گے۔جو أكلها دائما الرعد : ۳۶) کے مصداق ہوں گے۔یاد رکھو کہ یہ وہی مقام ہے جہاں صوفیوں کے سلوک کا خاتمہ ہے : عود :