کتابِ تعلیم — Page 22
۲۲ اپنی طاقتوں اور اپنی قدرتوں اور اپنے نشانوں سے اپنے تئیں آپ ظاہر کرتا ہے۔اور اس کو اسی کے ذریعے سے ہم پاسکتے ہیں۔اور وہ راستبانوں پر ہمیشہ اپنا وجود ظاہر کرتا رہتا ہے اور اپنی قدر میں ان کو دکھلاتا ہے اسی سے وہ شناخت کیا جاتا ہے اور اسی سے اس کی پسندیدہ راہ شناخت کی جاتی ہے " (روحانی خزائن جلد 19 صلات) "حق اللہ یہ ہے کہ اس کو واجب الاطاعت سمجھے اسلام کے معنی تو یہ تھے کہ انسان خدا تعالٰی کی محبت اور اطاعت میں فنا ہو جاو سے اور جس طرح ہر ایک بکری کی گردن قصاب کے آگے ہوتی ہے اسی طرح ہر مسلمان کی گردن خدا تعالیٰ کی اطاعت کے لئے رکھ دی جاو سے اور اس کا مقصد یہ تھا کہ خدا تعالیٰ ہی کو وحدہ لا شریک سمجھے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اس وقت یہ تو حید کم ہو گئی تھی اور یہ دیش آریہ ورت بھی بتوں سے بھرا ہوا تھا۔جیسا کہ پنڈت دیانند سرسوتی نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے۔ایسے وقت میں ضرور تھا کہ آپ مبعوث ہوتے اس کا ہم زنگ یہ نہ مانہ بھی ہے جس میں ثبت پرستی کے ساتھ دہریت بھی پھیل گئی ہے اور اسلام کا اصل مقصد اور روح باقی نہیں رہی۔اس کا مغز تو یہ تھا کہ خدا ہی کی محبت میں فنا ہو جانا اور اس کے سوا کسی کو معبود نہ سمجھنا اور مقصد یہ ہے کہ انسان رو بخدا ہو جاو سے رو بہ دنیا نہ رہے۔۔۔۔۔۔حق اللہ یہ ہے کہ اس کو واجب الاطاعت سمجھے " د ملفوظات جلد چهارم ۵۵۰