کتاب محفوظ — Page 46
ظاہر بھی نور ہے اور باطن بھی۔اس کے اوپر بھی نور ہے اور نیچے بھی اور اس کا ایک ایک لفظ نور ہے۔یہ روحانیت کا باغ ہے جس کے بکثرت پھل جھکے ہیں اور جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔خوش بختی کے تمام ثمرات اس میں پائے جاتے ہیں۔ہر روشنی اس سے خاص کی جا سکتی ہے اس کے بغیر اس کا حصول محال ہے۔اس کے فیض کے چشمے بہت ہی شیریں ہیں پس اس سے پینے والوں کو مبارک ہو۔یقیناً میرے دل میں اس کے انوار جاگزیں ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ ان کا حصول کسی اور ذریعہ سے میرے لئے ممکن نہ تھا۔خدا کی قسم اگر یہ قرآن نہ ہوتا تو میری زندگی بد مزہ تھی۔میں نے اس کا حسن لاکھ یوسفوں سے بھی زیادہ پایا ہے بس میں اس کی طرف کلیتہ راغب ہو گیا ہوں اور میرے دل میں اس کی محبت گھر کر گئی ہے۔اس نے مجھے اس طرح نشود نما دی جس طرح جنین کو پرورش دی جاتی ہے۔میرے دل پر اس کا عجیب اثر ہے۔اس نے میرے نفس کو موہ لیا ہے۔مجھے کشف کے ذریعہ یہ معلوم ہوا ہے کہ باغ قدس کو آب قرآن سے سیراب کیا جاتا ہے۔وہ آب حیات کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے۔جو بھی اس سے پیتا ہے وہ زندہ ہے بلکہ وہ زندہ کرنے والوں میں سے ہو جاتا ہے۔====== تمت بالخير =====