کتاب محفوظ — Page 26
اللہ کی وجہ سے مقدمات درج کرنے کا مطلب ہی کیا ہے؟ کیا مولوی یہ نہیں چاہتا کہ احمدی یہ کلمہ چھوڑ دیں؟ اور پھر جس پر مقدمہ درج کیا گیا ہو وہ کیوں نہیں کہتا کہ اس کا کلمہ محمد رسول اللہ نہیں بلکہ احمد رسول اللہ ہے۔سارے کیس چھان ماریں۔ایک احمدی بھی آپ کو ایسا نہیں ملے گا جس نے مقدمہ درج ہونے پر یہ کہا ہو کہ۔اس کا کلمہ احمد رسول اللہ ہے۔ہر ایک کی زبان پر ایک ہی اقرار تھا اور ایک ہی گواہی تھی کہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ لیکن ان مولویوں میں سے کون ہے جو کلمہ طیبہ کی وجہ سے جیل میں گیا ہو۔احمدیوں پر یہی تو الزام ہے کہ وہ کلمہ طیبہ کو حرز جان بنائے ہوئے ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت کوئی صعوبت کوئی تشدد ان کو اس کلمہ سے جدا نہیں کر سکتا۔چنانچہ امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا طاہر احمد ایدہ اللہ الودود فرماتے ہیں:۔" احمدی کسی قیمت پر بھی کلمہ سے جدا نہیں ہوں گے۔ان کی زندگیاں ان کو چھوڑ سکتی ہیں مگر کلمہ احمدی کو نہیں چھوڑے گا اور احمدی کلمہ کو نہیں چھوڑے گا۔ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر سکتی ہے مگر کلمہ کو ساتھ لے کر اٹھے گی اور ناممکن ہے کہ ان کی روح سے کلمہ کا تعلق کاٹا جائے۔ان کی رگِ جان تو کائی جا سکتی ہے مگر کلمہ طیبہ کی محبت کو ان سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔احمدیوں کی کیفیت تو یہ ہے کہ جس طرح حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری وجود کو جب خطرہ تھا تو انصار کے دل سے ایک بے ساختہ آواز اٹھی تھی کہ یا رسول اللہ ! ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے ! اور آپ کے پیچھے بھی لڑیں گے! آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور آپ کے بائیں بھی لڑیں گے۔اور خدا کی قسم! دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ نکلے !!۔آج حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہری وجود تو ہم میں نہیں ہے لیکن آپ کی یہ پاک نشانی ہمیں دل و جان سے زیادہ پیاری ہمارے اندر موجود ہے۔یعنی وہ کلمہ طیبہ جس میں توحید باری تعالٰی کا محمد