کتاب محفوظ — Page 18
قارئین کرام ! برامین احمدیہ صفحه ۶۵۵ روحانی خزائن جلد ا کی جس عبارت کو مصنف رسالہ نے نقل کیا ہے اور نقل کرنے کے بعد جو حملہ حضرت مرزا صاحب پر کیا ہے دیکھئے یہ حملہ حضرت مرزا صاحب پر نہیں بلکہ حضرت عبداللہ ابن عباس پر کیا گیا ہے۔حضرت مرزا صاحب کی بیان فرمودہ عبارت ملاحظہ فرما دیں کہ : " آپ لوگ کیوں قرآن شریف میں غور نہیں کرتے اور کیوں سوچنے کے وقت غلطی کھا جاتے ہیں۔کیا آپ صاحبوں کو خبر نہیں کہ صحیحین سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس امت کے لئے بشارت دے چکے ہیں کہ اس امت میں بھی پہلی امتوں کی طرح محدث پیدا ہوں گے اور محترث بفتح دال وہ لوگ ہیں جن سے مکالمات و مخاطبات الہیہ ہوتے ہیں اور آپ کو معلوم ہے کہ ابن عباس کی قرات میں آیا ہے وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبي ولا محدث الااذا تمنى القى الشيطان في امنيته فينسخ الله ما يلقى الشيطان ثم يحكم الله آیا ته پس اس آیت کی رو سے بھی جس کو بخاری نے بھی لکھا ہے محدث کا الہام یقینی اور قطعی ثابت ہوتا ہے" (براہین احمدیہ صفحه ۱۵۵ روحانی خزائن جلد ۱) حضرت مرزا صاحب نے اس آیت میں ولا محدث کا لفظ از خود داخل نہیں فرمایا بلکہ اس آیت کی ایک دوسری قرآت کا ذکر فرمایا ہے جو حضرت ابن عباس سے مروی ہے اور اسے تفسیر روح المعانی میں حضرت علامہ آلوسی نے اور تغییر الدرالمنشور میں حضرت امام جلال الدین سیوطی کے علاوہ متعدد کتب تفاسیر میں دیگر مفسرین نے درج فرمایا ہے۔پس ان مولوی صاحب کا حملہ حضرت مرزا صاحب پر نہیں بلکہ حضرت ابن عباس پر ہے یا پھر ان مفسرین پر جن کی بزرگی کے یہ خود بھی قائل ہیں۔قارئین کرام ! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ کہیں ان مولوی صاحب نے ہمارے آقا و مولی حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک سنت اور مبارک طریق پر زبان دراز کی ہے تو کہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ کی روایت کردہ قرآت کو تحریف کا نام دیا ہے اور اس طرح گستاخ رسول اور گستاخ صحابہ ہونے کا ثبوت دیا ہے۔