خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 581 of 682

خطبات وقف جدید — Page 581

581 حضرت علیه مسح الخمس ايد العالی بنصرہ العزیز نے ہم پر رشک کیا ہے۔صحابہ تو ہر وقت اس فکر میں رہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کی طرف سے کوئی تحریک ہوا اور ہم عمل کریں۔امراء تو اپنی کشائش کی وجہ سے خرچ کر دیتے تھے لیکن غرباء بھی پیچھے نہیں رہتے تھے۔وہ بھی اپنا حصہ ڈالتے رہتے تھے چاہے وہ شبنم کے قطرے کے برابر ہی ہو۔صلى الله حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب صدقہ کرنے کا ارشاد فرماتے تو ہم میں سے کوئی بازار کو جاتا اور وہاں محنت مزدوری کرتا اور اسے اجرت کے طور پر ایک مداناج وغیرہ یا جو بھی چیز ملتی وہ اسے صدقہ کرتا یہ کوشش ہوتی کہ ہم نے اس میں حصہ لینا ہے اور کما کے حصہ لینا ہے۔اور راوی بیان کرتے ہیں کہ ان میں سے بعضوں کا یہ حال ہے کہ ایک ایک لاکھ درہم ان کے پاس موجود ہیں۔جو مزدوری کر کے چندے دیا کرتے تھے۔(بخاری کتاب الاجاره باب من آجر نفسه ليحمل على ظهره ثم تصدق به۔۔۔۔۔۔۔تو یہ ہے برکت قربانی کی۔اس لئے جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ بہت غریب ہیں۔بعض کہہ دیتے ہیں حالات اجازت نہیں دیتے کہ چندہ دے سکیں اسلئے معذرت۔ایسے لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ چندہ نہ دے کر اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور وعدوں سے محروم ہو رہے ہیں۔پاکستان میں بھی غربت بہت زیادہ ہے لیکن وہاں اللہ کے فضل سے بڑھ چڑھ کر ہر تحریک میں حصہ لیتے ہیں چندہ دیتے ہیں۔اور عموماً جو انہوں نے مختلف تحریکات اور چندوں میں پہلی دوسری پوزیشن لینے کا اپنا ایک معیار قائم کیا ہوا ہے اس کو قائم رکھتے ہیں اس کی تفصیل تو آگے آخر میں بتاؤں گا۔تو مغربی ممالک میں رہنے والے سوائے ان کے جن کو صرف کھانے کے لئے ملتا ہے کئی ایسے ہیں۔جو اچھی قربانی کر سکتے ہیں۔صرف دل میں حوصلہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔اگر علم ہو جائے کہ کتنا ثواب ہے، کتنی برکات ہیں، کتنے فضل ہیں تو حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ہر صبح دو فرشتے اترتے ہیں ان میں ایک کہتا ہے کہ اے اللہ ! خرچ کرنے والے بھی کو اور دے اور اس کے نقش قدم پر چلنے والے اور پیدا کر۔دوسرا کہتا ہے کہ اے اللہ ! روک رکھنے والے کنجوس کو ہلاکت دے اور اس کا مال و متاع بر باد کر دے۔(بخاری کتاب الزكواة باب قول ا الله فاما من اعطى واتقى۔(۔۔۔۔۔۔پس فرشتوں کی دعائیں لینے کیلئے ، اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنے کیلئے ، ہمیشہ کوشش کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ کی راہ میں جس قدر بھی خرچ کر سکیں کیا جائے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت نبی اکرم ﷺ نے ایک دفعہ اپنی نسبتی ہمشیرہ حضرت اسماء بنت