خطبات وقف جدید — Page 540
540 حضرت خلیفہ امسیح الرابع پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔اصل رازق خدا تعالیٰ ہے۔وہ شخص جو اس پر بھروسہ کرتا ہے کبھی رزق سے محروم نہیں رہ سکتا۔وہ ہر طرح سے اور ہر جگہ سے اپنے پر تو کل کرنے والے شخص کے لئے رزق پہنچاتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مجھ پر بھروسہ کرے اور تو کل کرے ہمیں اس کیلئے آسمان سے برسا تا اور قدموں سے نکالتا ہوں۔پس چاہیے کہ ہر ایک شخص خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرے۔“ ( بدر جلد 6 نمبر 38-19 ستمبر 1907 صفحہ 7) پھر یہ آیت قرآنی قُلْ لَعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا يُقِيمُوا الصَّلوةَ وَيُنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنهُمْ سِرًّا وَّ عَلَا نِيَّةٌ مِّنْ قَبْلِ أَنْ يَّا تِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خِلَلٌ ( ابراہیم: 32) تو میرے ان بندوں سے کہہ دے جو ایمان لائے ہیں کہ وہ نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے مخفی طور پر بھی اور علانیہ طور پر بھی خرچ کریں پیشتر اس کے وہ دن آجائے جس میں کوئی خرید و فروخت نہیں ہوگی اور نہ کوئی دوستی ( کام آئے گی )۔جو علانیہ ہے یہ بھی دکھاوے کی خاطر نہیں ہے بلکہ اس غرض سے ہے تا کہ دوسروں کو بھی تحریک ہو تو ہر شخص کی نیتوں کا حال اللہ بہتر جانتا ہے۔اگر اس نیت سے کوئی علانیہ بھی کرتا ہے کہ میرے علانیہ خرچ کرنے سے دوسروں کو تحریک ہوگی تو اس کی اجازت ہے۔اگر کوئی مخفی اس لئے خرچ کرتا ہے کہ میرے نفس میں موٹائی نہ آجائے ، مجھے اپنے نفس کی طرف سے دھو کہ نہ لگ جائے تو یہ اور بھی بہتر ہے۔تو ہمارے چندوں کی تحریک میں بھی یہ دونوں طریق جائز ہیں۔علامیہ بھی کئے جاتے ہیں۔لیکن جو شخص دکھاوے کیلئے کرتے ہیں اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہ پھر چندہ ادا نہیں کیا کرتے وہ صرف وعدے بڑے بڑے لکھا دیتے ہیں پھر ان کو کبھی بھی چندہ ادا کرنے کی توفیق نہیں ملتی۔پھر سورۃ فاطر کی آیت 30 ہے: اِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَبَ اللَّهِ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَانْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُورَ (سورة فاطر: 30) یقیناً وہ لوگ جو کتاب اللہ پڑھتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں اور اسمیں سے جو ہم نے ان کو عطا کیا ہے پوشیدہ بھی خرچ کرتے ہیں اور اعلانیہ بھی وہ ایسی تجارت کی امید لگائے ہوئے ہیں جو بھی تباہ نہیں ہوگی۔دیکھو دنیا کی تجارتیں تو تباہ ہوتی رہتی ہیں اور بڑی بڑی تجارتیں بھی کتنی بڑی بھی ہوں، لاکھوں کروڑوں کی ہوں وہ بھی جب کام ٹوٹتا ہے تو پتہ بھی نہیں لگتا کہ پیسے گئے کہاں۔بعض لوگ اپنی حماقت کی