خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 524 of 682

خطبات وقف جدید — Page 524

524 حضرت خلیفۃ المسیح الرابع یہ جمعہ نیکیوں کو وداع کرنے کا جمعہ نہیں ہے۔یہ سب سے پہلی اور اہم بات ہے جو میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں۔ہر سال جمعۃ الوداع کے موقع پر میں یہی پیغام دیا کرتا ہوں کہ یہ وداع نیکیوں کا وداع نہیں ہے کہ جس طرح بچے ٹاٹا کر دیتے ہیں کہ اچھا نیکیو! چھٹی ہوئی تم سے رخصت ہوئے بلکہ اگر جمعۃ الوداع کی کوئی اہمیت ہے تو صرف یہ اہمیت ہونی چاہئے کہ جمعہ الوداع کے موقع پر اپنے سارے وہ سبق انسان دہرائے جو رمضانِ مبارک میں سیکھے تھے اور ان اسباق کو اپنے نفس پر چسپاں کرے اور پھر اگلے سال کی تیاری کرے۔تو یہ وداع کے ساتھ استقبال کا بھی جمعہ ہے جس کے ساتھ اگلے سال کے رمضان کے استقبال کی دینی تیاری ہوتی ہے۔تو میں اُمید رکھتا ہوں کہ جماعت خصوصیت سے اس اہم بات کو یادر کھے گی کہ جمعتہ الوداع کو محض رخصت کا جمعہ نہیں بلکہ استقبال کا جمعہ بھی قرار دیں گے اور اس استقبال کے جمعہ سے سب سے زیادہ اہم سبق جورمضان مبارک میں ہم نے سیکھا ہے وہ نمازوں کی پابندی ہے۔پانچ وقتہ نمازوں کی پابندی تو لازم ہے اس کے بغیر تو روزہ ہوہی نہیں سکتا اور اس کے علاوہ تراویح یا تہجد کی نماز یہ تقریبا فرض کی طرح ہی جھنی چاہئے۔کیونکہ آنحضرت ﷺ نے تہجد کی نماز میں مداومت اختیار فرمائی۔پس یہ سبق ہے جو جماعت کو آئندہ سال کے لئے ہمیشہ یادرکھنا چاہیئے تا کہ اللہ تعالی آئندہ سال کے رمضان تک ہماری نیکیوں کو بقا بخشے اور ایک تسلسل عطا فرمائے۔اب میں امسال جو خصوصیت سے بعض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے امور رونما ہوئے ہیں جن کو اتفاقی نہیں کہا جاسکتا ان کے اندر ضرور کوئی گہری حکمت ہوگی اور جو حکمتیں بھی لوگوں کی سمجھ میں آئی ہیں ان سے ایک نتیجہ ضرور اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہ سال جماعت کے لئے غیر معمولی برکتوں کا سال ہوگا۔کن معنوں میں ہوگا اللہ بہتر جانتا ہے۔اب میں اس جمعہ میں جو اس سال کی خصوصیات ہیں ان کا خاص طور پر ذکر کرتا ہوں ان خصوصیات کی طرف میری توجہ تو نہیں گئی تھی مگر امام صاحب نے خصوصیت سے لکھ کر یہ نکات بھیجے کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ سال ایک خاص سال ہے، کوئی عام سال نہیں اور ان نکات میں صادق محمد صاحب طاہر نے بھی اپنی طرف سے کچھ چیزیں شامل کر لیں جو درست ہیں مگر اب میں سب اکٹھی آپ کے سامنے پڑھ کر سناتا ہوں۔اس سال کا آغاز جمعہ کے دن سے ہوا اور اختتام بھی جمعہ کے مبارک دن سے ہورہا ہے۔اس سال کے عین وسط میں دو جولائی کو بھی جمعہ کا مبارک روز تھا۔182 روز اس سے پہلے گزر چکے تھے اور 182 روز اس کے بعد آئے۔اس سال کے آغاز کے وقت رمضان کا مبارک مہینہ تھا اور سال کا اختتام بھی رمضان کے مبارک مہینہ میں ہو رہا ہے۔یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ ایک ہی سال میں دو رمضان آئے ہیں۔اس سال میں آنے والے رمضان مبارک کا آغاز جمعہ کے دن سے ہوا اور رمضان المبارک کا آخری دن بھی جمعتہ المبارک ہے۔اس رمضان المبارک کے عین وسط میں یعنی پندرہ رمضان کو بھی جمعہ تھا۔