خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 446 of 682

خطبات وقف جدید — Page 446

446 حضرت خلیفہ مسیح الرابع فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُم پہلے بھی میں نے اس کا ذکر کیا تھا یہاں یہ نہیں فرمایا کہ انفِقُوا فِي سَبِيلِ اللهِ مَا اسْتَطَعْتُمْ یہ فرمایا ہے فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُم اور مضمون ہے خرچ کا۔یعنی یہ حکمت واضح فرمائی جارہی ہے کہ تمہارے خرچ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اس خرج میں دلچسپی ہے جو تقویٰ کی استطاعت بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جائے گا۔اس خرچ میں دلچسپی ہے جو اللہ کے تقویٰ کی خاطر اسکی رضا کی خاطر تم پیش کرو گے ورنہ محض مال میں تو کوئی دلچسپی نہیں ہے اللہ کو کیونکہ وہ سارا مال اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔وہی عطا کرتا ہے اسی نے سارا نظام اقتصادیات بنایا اور اسی کے قوانین کے تابع یہ جاری ہے جس کو چاہے عطا فرمائے جس سے چاہے چھین لے۔اس لئے مال کی بحث نہیں ہے تقویٰ کی بحث ہے۔اس کی وضاحت اس لئے ضروری ہے اور اسی غرض سے میں نے اس آیت کا آج کیلئے انتخاب کیا تھا کہ بعض دوست اپنی نادانی میں یہ سمجھتے ہیں کہ جماعت احمدیہ میں جو مال مال کا چرچا ہو رہا ہے گویا کہ محض ایک تاجر ذہنیت کی جماعت ہے۔ہر وقت مالوں کے مطالبے ہورہے ہیں اور اس خیال کو بعض اپنی طرف سے تو پیش نہیں کرتے اپنے غیر احمدی دوستوں کی طرف منسوب کر کر کے پیش کرتے ہیں اور جو کرتا ہے وہ اپنے دل کا ایک داغ ضرور دکھا جاتا ہے ورنہ جو مالی نظام کو سمجھتا ہو اور خدا کی خاطر قربانی کرنے والا ہواس کا غیر احمدی دوست اگر یہ بات کہے گا تو اس کو ہزار جواب وہ اپنی طرف سے دے سکتا ہے کہ تمہیں پتہ ہی کیا ہے تم لوگ تو خدمت دین کرنے کیلئے بھی بھکاری بنے ہوئے ہو یعنی بڑی بڑی امیر طاقتوں سے پیسے لیتے ہوتو خدمت کرتے ہو۔خدمت دین تو وہ ہوتی ہے کہ اپنی جیب سے انسان خرچ کرے اور پھر خدمت بھی کرے اور پھر اللہ تعالیٰ نے تو سارے قرآن میں جگہ جگہ ،صفحہ انہیں تو مالی قربانی کا ذکر ملتا ہے بلکہ خدا کے ساتھ بیعت کی شرط میں اس کو داخل فرما دیا۔اِنَّ اللَّهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ط (التوبۃ :111) خدا کواتنی ضرورت تھی مال کی کہ وہ بیعت جو خدا سے ہوتی ہے اس بیعت کی دو شرطیں ہیں۔ان کی جانیں بھی خدا نے لے لیں ان کے مال بھی لے لئے۔یہ سودا ہوا ہے جس کے نتیجے میں ان کو جنت نصیب ہوگی۔تو مال کی قربانی کو جو تعلق ہے وہ براہ راست مال کی حرص سے نہیں بلکہ مال کی حرص کے فقدان سے ہے۔یہ مضمون ہے جس کا تقویٰ میں ذکر بیان فرمایا گیا ہے۔وہ قو میں جن کو مال کی حرص ہوتی ہے وہ خرچ کیسے کر سکتی ہیں خدا کی راہ میں ، وہ نظام جو مال کی حرص سے آزادی دلاتا ہے وہی نظام ہے جو مالی قربانی پر چل سکتا ہے۔اگر مال کی حرص کی قیمت بڑھانے والا نظام ہو تو کوئی چندے نہیں دے گا۔سب کے ہاتھ بند ہو جائیں گے مٹھیاں بند ہو جائیں گی۔تو ایسی متضاد بات کرتے ہیں جو اگر ذراسی بھی عقل سے غور کریں تو کسی پہلو سے بھی کچی ثابت نہیں ہو سکتی۔اول خدا تعالیٰ جو مالک اور خالق اور