خطبات وقف جدید — Page 370
370 حضرت خلیفہ مسیح الرابع کرتا تو وہ کام ہی شروع نہیں ہوتا اس لئے بیعتیں کروانا آخری مقصود نہیں ہے بلکہ بیعتیں کروانا آخری مقصود کی طرف پہلا قدم اٹھانے کا ایک ذریعہ ہے۔پس یہ سارے افریقہ کے علاقے جہاں کثرت کے ساتھ جماعتیں پھیلی ہیں وہاں اب وقف جدید کی قسم کی تحریکوں کے خاموش مطالبے ہور ہے ہیں یعنی بزبانِ حال وہ علاقے کہ رہے ہیں کہ یہاں بھی وقف جدید جاری کی جائے۔انشاء اللہ وقت آئے گا کہ دنیا کے رملک میں یہ تحریکیں جاری ہونگی اور وقف جدید کے ذریعے دیہاتی جماعتوں کی علمی ، روحانی ضرورتیں پوری کی جائیں گی۔اب میں آپ کے سامنے مختصر گزشتہ سال کے یا سالِ رواں کے مالی کوائف رکھتا ہوں اس ضمن میں میں آپ کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ چند سال پہلے غالباً پانچ سال پہلے میں نے باہر کی دنیا کے لئے بھی وقف جدید کے چندے میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی اور یہ گذارش کی تھی کہ اگر چہ اب تک یہ تحریک پاکستان تک محدود رہی ہے اور بعد میں بنگلہ دیش بھی اس میں شامل سمجھا جانا چاہئے ، کیونکہ پہلے وہ پاکستان ہی تھا اور ہاں ہندوستان میں بھی لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ہندوستان میں جتنی ضرورت ہے اتنا روپیہ ہندوستان نہیں دے سکتا اس لئے باہر کی جماعتیں چندوں میں شامل ہو جائیں۔اگر چہ ان کے اپنے اپنے ملکوں میں وقف جدید کا کام بے شک شروع نہ ہو مگر چندوں کی برکت میں وہ شامل ہو جا ئیں۔اس سعادت میں شامل ہو جائیں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت نے بہت ہی مثبت جواب دیا اور تقریباً52 ملک ایسے ہیں جن میں خدا تعالیٰ کے فضل سے باقاعدہ وقف جدید کا چندہ آنا شروع ہو گیا۔اس سال جب ہم نے جائزہ لے کر پہلے 10 ممالک کی فہرست تیار کی کہ جو وقف جدید کی قربانی میں اوّل ، دوم، سوم ، دس نمبر تک آئے ہیں تو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ جرمنی کی جماعت جو تحریک جدید میں بھی اول تھی وقف جدید میں بھی اول رہی ہے اور پاکستان کو میں اس میں شامل نہیں کر رہا۔پاکستان تو خدا کے فضل سے اپنی اولیت کو ہر پہلو سے برقرار رکھے ہوئے ہے اور ابھی تک دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جو ثبات قدم کے لحاظ سے یا آزمائشوں پر رضا اور صبر کے ساتھ پورا اترنے کے لحاظ سے، قربانیوں کے لحاظ سے اور کثرت کے ساتھ باخدا انسان پیدا کرنے کے لحاظ سے پاکستان کے مقابل پر ہو۔پاکستان کی وہ اولیت جو ہندوستان سے ہجرت کے بعد اس کو عطا ہوئی وہ بفضلہ تعالیٰ ابھی تک قائم ہے تو آئندہ جو میں اعداد وشمار آپ کے سامنے رکھتا ہوں اس میں آپ پاکستان کو شامل نہ سمجھیں اس کے علاوہ کے اعدادو شمار ہیں۔جرمنی اول رہا ہے اور تحریک جدید میں بھی اوّل تھا اور خوشی والا تعجب اس بات پر ہے کہ ہندوستان دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔گو باقی امور میں مختلف قسم کے جو چندے ہیں ان میں ہندوستان کا نمبر بہت پیچھے ہے لیکن وقف جدید میں خدا کے فضل سے