خطبات وقف جدید — Page 347
347 حضرت خلیفہ امسیح الرابع ضرورتیں تو ویسے دین کی کبھی بھی پوری نہیں ہوا کرتیں مگر اگر ایسا وقت آیا کہ ہندوستان کی جماعتیں اپنی کوششوں کے ذریعہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکیں اور اللہ کرے کہ جلد وہ وقت آئے تو پھر اسی روپے کو آپ کے بچوں کی تربیت کے لئے استعمال کیا جائے گا اور جس طرح معلمین تیار کئے جاتے ہیں مدرس کے طور پر من جگہ جگہ بیٹھ کر چھوٹی جماعتوں ، میں پورے مربی کی تعلیم تو نہیں پاتے لیکن اتنا علم ضرور رکھتے ہیں کہ ابتدائی قرآن کی تعلیم ، نماز ، روزے کی تعلیم دے سکیں ، تو اس قسم کے معلم پھر غیر ملکوں میں بھی رکھے جاسکتے ہیں۔تو یہ تحریک انشاء اللہ تعالیٰ ایک لمبی چلنے والی تحریک ہے اور بہت ہی نتیجہ خیز ثابت ہو گی لیکن سر دست تو فوری ضرورت ہمیں ہندوستان کیلئے ہے تو میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ وہ جماعتیں بھی جواب تک اس تحریک کے فوائد سے غافل رہنے کی وجہ سے اس میں ہل کا حصہ لیتی رہی ہیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ جب جماعت کو احساس ہو جائے کہ کسی چیز کی ضرورت ہے تو پھر وہ ہلکا حصہ نہیں لیا کرتی بلکہ بعض دفعہ تو روکنا پڑتا ہے سمجھا کر کہنا پڑتا ہے کہ بھٹی اس سے زیادہ نہ دو۔اس لئے یہ تو ناممکن ہے کہ جماعت نے وقف جدید کی طرف اس لئے توجہ نہ دی ہو کہ انکے اندرا خلاص میں کمی آگئی ہے نعوذ باللہ من ذلک۔لیکن یہ یقینی بات ہے کہ وقف جدید کے فوائد اور اس کے عالمی اثرات سے ناواقفیت کے نتیجہ میں جماعت کا رد عمل نسبتا نرم ہوا ہو۔اسلئے میں آپ کو یاد کروا رہا ہوں کہ اس تحریک کے یہ مقاصد ہیں یہ اس کے فوائد ہیں یہ اس کی ضروریات ہیں اس لئے جہاں تک تو فیق ہو آپ اس تحریک میں پہلے سے بڑھ کر حصہ لیں۔اور آخر پر یہ بات یاددہانی کے طور پر کہتا ہوں کہ اپنے بچوں کو کثرت سے اس میں شامل کریں۔جو تعداد مجھے ملی ہے مجھے یقین نہیں آتا کہ یہ اعداد و شمار درست ہوں گے۔بتایا گیا ہے کہ بیرون پاکستان صرف چھ ہزار احباب ہیں جو وقف جدید میں اب تک شامل ہوئے ہیں۔یہ ماننے والی بات نہیں اعدادو شمار بھجوانے میں ضرور غلطی ہوئی ہے مگر کوشش یہ کرنی چاہیے کہ کوئی احمدی بچہ بھی ایسا نہ رہے جو وقف جدید میں شامل نہ ہو۔اور باہر کے لحاظ سے اگر آپ ایک پونڈ مثلاً انگلستان میں ایک بچے کیلئے پیش کر دیں تو میرے خیال میں تو کوئی ایسی مشکل نہیں ہے اور اگر نسبتاً بڑے بچوں کو یہ عادت ڈالیں کہ وہ اپنے ہاتھ سے پیش کریں اور اپنے جیب خرچ میں سے پیش کریں تو پھر اس کا بہت فائدہ پہنچے گا اور روحانی لحاظ سے ان بچوں کے دل میں ہمیشہ کیلئے ایک عزم پیدا ہو جائے گا ایک خواہش پیدا ہو جائے گی کہ ہم دینی خدمات میں حصہ لیتے رہیں۔ایک بیج بویا جائے گا جسے خدا تعالیٰ پھر بڑھائے گا تو اس پہلو سے اس طرف بہت توجہ دینی چاہیے۔باہر کی دنیا میں تعداد بڑھانے کی طرف خصوصیت سے توجہ دی جائے اور میں سمجھتا ہوں اگر تعداد بڑھائی جائے اور تھوڑا تھوڑا چندہ بچے بھی دیں اور بعض نئے شامل ہونے والے بھی پیش کریں تو سر دست