خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 220 of 682

خطبات وقف جدید — Page 220

220 حضرت خلیق اصبح الثالث کو بھی مبارک ہو۔خدا کرے کہ یہ سال انسانیت کے لئے خیر و برکت کا سال ہو۔دنیوی لحاظ سے بھی اور بین الاقوامی رشتوں کے لحاظ سے بھی اور امن عامہ کے لحاظ سے بھی اور غلبہ اسلام کے لحاظ سے بھی۔دوسری بات جو میں اس وقت مختصراً کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ وقف جدید کے نئے سال کا اعلان میں عام طور پر سال کے پہلے جمعہ کے خطبہ میں کیا کرتا ہوں چنانچہ آج میں وقف جدید کے بائیسویں اور دفتر اطفال وقف جدید کے چودھویں سال کے آغاز کا اعلان کرتا ہوں۔وقف جدید ہماری جماعت کا ایک چھوٹا سا شعبہ ہے جسے حضرت مصلح موعود نے جماعت کی تربیت کے لئے قائم کیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور جماعت کو اس میدان میں کام شروع کرنے اور آہستہ آہستہ آگے بڑھنے کی توفیق دی لیکن جیسا کہ آپ اکثر میری زبان سے سن چکے ہیں آہستہ آہستہ آگے بڑھنے کا زمانہ آہستہ آہستہ پیچھے رہ گیا اور تیزی سے آگے بڑھنے کا زمانہ شروع ہو گیا۔اس میں شک نہیں کہ وقف جدید کا کام بہت محدود ہے لیکن ہر کام کیلئے کام کرنے والوں کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر کام کے لئے رقم کی ضرورت ہوتی ہے جس نے سفر کرنا ہے اس نے چوری کر کے اور ٹکٹ خریدے بغیر تو سفر نہیں کرنا یہ تو جماعت احمدیہ کی ریت ہی نہیں ہے۔معلمین کے سفروں پر خرچ آتا ہے جو کہ دیہات میں جاتے ہیں اور پھرتے ہیں اور قرآن کریم ناظرہ پڑھاتے ہیں اور بعض کو ترجمہ سے پڑھاتے ہیں اور عام مسائل بتاتے ہیں۔یہ چھوٹی سطح پر بچوں کی ابتدائی تربیت ہے جنہوں نے کہ پہلے اپنی بدقسمتی سے اسلامی تعلیم حاصل نہیں کی ان کو وہ ابتدائی مسائل سکھاتے ہیں۔یہ تدبیر کی دنیا ہے اور تدبیر کی دنیالا زمی طور پر تدریجی ارتقا کی دنیا ہوتی ہے اور تدریجی ارتقالا ز ما ابتدائی باتوں کو بھی اتنی ہی اہمیت دیتا ہے جتنی کہ بہت آگے نکلنے کے بعد ضروری باتوں کو دی جاتی ہے اس لئے معلمین وقف جدید اگر چہ ابتدائی مسائل کی تعلیم دیتے ہیں لیکن ابتدائی مسائل کی تعلیم دینا بھی بہت ضروری ہے۔مثلاً یہ دیکھ کر بڑا دکھ ہوتا ہے کہ بازار کے جو آداب محمد نے سکھائے ہیں ربوہ میں بھی بہت کم لوگ ان سے واقفیت رکھتے ہیں۔ربوہ کے نظام کو اس طرف بھی توجہ دینی چاہیے اور معلمین وقف جدید کوتو بہت سی کتابیں چھپوا کر یا نوٹ لکھوا کر یہ مسائل بتانے چاہئیں تا کہ ہر ایک کے دماغ میں یہ ڈالا جائے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اسلام وحشی کو مہذب انسان بنانے کے لئے اور مہذب انسان کو با اخلاق انسان بنانے کے لئے اور با اخلاق انسان کو با خدا انسان بنانے کے لئے آیا ہے۔اس کا پہلا مرحلہ تادیب ہے یعنی ادب سکھانا اور انسان کے لئے ہر مرحلے میں سے گزرنا، اس کے مسائل کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے۔اسلام کی تعلیم میں کوئی بھی ایسی چھوٹی بات نہیں اور اسلام کے احکام میں سے کوئی بھی ایسا چھوٹا حکم نہیں جسے چھوٹا سمجھ کر نظر انداز کیا جاسکے