خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 307 of 682

خطبات وقف جدید — Page 307

307 حضرت خلیفہ مسیح الرابع فَأَوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۔وہ شخص یا وہ لوگ جن کو دل کے بخل سے بچالیا گیا ہے جن کے دل کو خدا نے کشادگی عطا فرما دی ہے ، یہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔اس آیت کے نزول کے وقت جو واقعہ بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت اقدس محمد صلى الله صلى الله مصطفی ﷺ کے پاس ایسے مہمان پہنچے جن کو ٹھہرانے کیلئے آنحضور ﷺ کے پاس کوئی خاص جگہ نہیں تھی آپ نے اس پر اعلان فرمایا کہ کوئی ہے جو میرے مہمانوں کو اپنے گھر لے جائے۔وہ بڑی غربت کا دور تھا اور اس آیت کریمہ سے بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ دن خصوصیت کے ساتھ مسلمانوں پر انتہائی غربت کے تھے۔اس وقت انصار میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں آپ کا مہمان میرا مہمان ہے۔میں اپنے گھر لے جاؤں گا۔چنانچہ آپ نے اس کو اس بات کی اجازت دی اور آنحضرت ﷺ نے اس مہمان کو اپنے ایک نہایت ہی عاشق غلام کے سپر د کر دیا۔انہوں نے گھر جا کر اپنی بیوی سے کہا کہ کھانا تو صرف اتنا ہی ہے جتنا کہ تمہارے لئے اور میرے لئے اور بچوں کیلئے مشکل سے پورا آسکتا ہے بلکہ اتنا بھی نہیں۔ہم تو گزارہ کر لیتے مگر میں ایک بہت ہی معزز مہمان لے کر آیا ہوں جو اللہ اور رسول کا مہمان ہے اس لئے میں تمہیں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ جس طرح بھی ہو سکے بچوں کو لوریاں دے کر سلا دو اور جب ہم کھانے پر بیٹھیں تو تم پلہ مار کے دیا بجھا دینا۔پھر ہم منہ سے ایسی آوازیں نکالیں گے کہ جس طرح کوئی کھا رہا ہوتا ہے اور مہمان اس اطمینان سے کہ میرے میزبان بھی ساتھ کھا رہے ہیں خوب پیٹ بھر کے کھانا کھائے گا اور وہ کھانا صرف اسی کو کافی ہو گا چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔جس وقت یہ واقعہ گزر رہا تھا اس وقت حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کی خبر دی اور یہ آیت کریمہ اس واقعہ کی شان میں نازل فرمائی۔صبح نماز کے وقت آنحضرت ﷺ نے یہ اعلان کیا کہ رات اس مدینہ میں ایک ایسا حسین واقعہ گزرا ہے ایک ایسا دلکش واقعہ گزرا ہے اس واقعہ کو دیکھ کر آسمان پر خدا ہنس رہا تھا اور لذت پار ہا تھا۔عجیب واقعہ ہے کہ وہ کھانا جس کی لذت سے وہ تو محروم تھے جو کھانا پیش کر رہے تھے لیکن اس کی لذت آسمان پر خدا حاصل کر رہا تھا۔اس وقت وہ روحانی لذت جوان کو محسوس ہوئی یہ اسی لذت کی طرف اشارہ ہے ایسا ہی انہوں نے کیا اور مہمان نے خوب پیٹ بھر کے کھانا کھایا۔اپنی طرف سے اس اندھیرے میں جس میں مہمان بھی ان کو دیکھ نہیں رہا تھا وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم پوری طرح دنیا کی ہر دوسری چیز کی نظر سے غائب ہیں ، اوجھل ہیں۔اللہ تعالیٰ اس چیز کو دیکھ بھی رہا تھا، اس چیز سے لطف بھی اٹھا رہا تھا کہ میرے بندے محمد ﷺ نے ان عربوں کو کس قعر مذلت سے اٹھا کر کس شان کے ساتھ آسمان تک بلند کر دیا ہے ان کو کہاں پہنچا دیا ہے۔اور پھر اس واقعہ کی خبر بھی وہ دے رہا تھا۔خدا تعالیٰ کی ستاری کا معاملہ بھی عجیب ہے