خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page iii of 682

خطبات وقف جدید — Page iii

خطبات وقف جدید بسم اللہ الرحمن الرحیم پیش لفظ وقف جدید کی تحریک حضرت خلیفہ المسح الثای نوراللہ مرقدہ کی بابرکت تحریکات میں سے آخری اور ایک بہت ہی اہم اور مبارک تحریک ہے جو آپ نے القائے الہی کے تحت رشد و اصلاح کے لئے جاری فرمائی۔چنانچہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے 19 جولائی 1957ءکوعیدالاضحیہ کے مبارک اور تاریخی موقعہ پر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی مثال بیان کرتے ہوئے اس مثال کو زندہ رکھنے کیلئے احمدی نوجوانوں کو خدمت دین کی اس اہم تحریک کی طرف متوجہ کیا اور اشاعت دین کے سلسلہ میں بزرگوں اور صوفیاء کی مثال پیش کرتے ہوئے فرمایا:۔" خدا تعالیٰ نے یہ ملک ہمارے لئے رکھے تھے تا کہ ہمارے نوجوان ان میں کام کر کے حضرت اسمعیل سے مشابہت حاصل کریں۔پس خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے نوجوان افریقہ کے جنگلات میں بھی کام کر رہے ہیں۔مگر میرا خیال یہ ہے کہ اس ملک میں بھی اس طریق کو جاری کیا جا سکتا ہے۔چنانچہ میں چاہتا ہوں کہ اگر کچھ نو جوان ایسے ہوں جن کے دلوں میں یہ خواہش پائی جاتی ہو کہ وہ حضرت خواجہ معین الدین صاحب چشتی “ اور حضرت شہاب الدین صاحب سہروردی " کے نقش قدم پر چلیں تو جس طرح جماعت کے نوجوان اپنی زندگیاں تحریک جدید کے ماتحت وقف کرتے ہیں۔وہ اپنی زندگیاں براہِ راست میرے سامنے وقف کریں تا کہ میں ان سے ایسے طریق پر کام لوں کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دینے کا کام کرسکیں۔وہ مجھ سے ہدایتیں لیتے جائیں اور اس ملک میں کام کرتے جائیں۔ہمارا ملک آبادی کے لحاظ سے ویران نہیں ہے لیکن روحانیت کے لحاظ سے بہت ویران ہو چکا ہے، اور آج بھی اس میں چشتیوں کی ضرورت ہے، سہر وردیوں کی ضرورت ہے اور نقشبندیوں کی ضرورت ہے۔اگر یہ لوگ آگے نہ آئے اور حضرت معین الدین صاحب چشتی ، حضرت شہاب الدین