خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 111 of 682

خطبات وقف جدید — Page 111

111 حضرت خلیفتہ امسح الثالث معاشرہ میں عورت زیادہ تر کمانے والے میدان میں داخل نہیں ہوتی الا ماشاء اللہ۔اب بعض ضرورتوں کے مطابق اور بعض غلط قسم کی نقلوں کی وجہ سے ہماری عورتیں بھی نوکری کی طرف ضرورت سے زیادہ متوجہ اور مائل ہو رہی ہیں۔میں اس بات کے متعلق اس وقت کچھ نہیں کہنا چاہتا۔میں اس وقت صرف یہ بتا رہا ہوں کہ مرد یا عورت جب کمانے لگ جاتی ہے تو اس پر اپنی آمد کا سولہواں حصہ (اگر اس نے وصیت نہیں کی ) یا کم از کم دسواں حصہ (اگر اس نے وصیت کی ہے ) بطور چندہ دینالازمی ہے۔جس طرح نماز اور دوسرے فرائض ہیں اسی طرح ایک احمدی پر مالی قربانی بھی بطور فرض کے عائد ہے اس پر فرض ہے کہ وہ اگر موصی یا موصیہ نہیں تو اپنی آمد کا سولہواں حصہ اور اگر موصی یا موصیہ ہے تو اپنی آمد کا کم از کم دسواں اور زیادہ سے زیادہ تیسرا حصہ اشاعتِ اسلام اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے جماعت کے بیت المال میں جمع کرائے۔پھر نظام کے مطابق ایک مجلس شوری کے موقع پر جماعت کے نمائندے خرچ کرنے کے متعلق کچھ سفارشات کرتے ہیں اور ان نمائندوں کے فیصلوں کے مطابق وہ رقم خرچ کی جاتی ہے۔چونکہ اسلام کا یہ بنیادی حکم ہے کہ فرائض سے کچھ زیادہ خرچ کرو تا تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو زیادہ سے زیادہ حاصل کر سکو۔اس لئے ہماری جماعت میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے علاوہ فرض چندوں کے بہت سے نفلی چندوں کی بھی تحریک کی ہوئی ہے ان میں سے ایک چندہ یعنی چندہ تحریک جدید گونفلی ہے لیکن ضرورت کے مطابق شاید وہ فرض کے قریب قریب پہنچا ہوا ہے۔اس کی مثال سنتوں کی سی ہے جو ہیں تو نوافل لیکن وہ فضل کی نسبت فرض کے زیادہ قریب ہمیں نظر آتی ہیں کیونکہ انھیں ادا کرنے کی صلى الله نبی کریم ﷺ نے بڑی تاکید فرمائی ہوئی ہے۔پھر چندہ تحریک جدید کے علاوہ چندہ وقف جدید ہے۔ان کے علاوہ آپ بہنوں کو ان چندوں میں بھی حصہ لینا پڑتا ہے جو خاص طور پر لجنہ اماءاللہ کی تحریک پر جمع کئے جاتے ہیں جیسا کہ مختلف مساجد کے بنانے میں آپ بہنوں نے قابلِ رشک حصہ لیا ہے۔قابلِ رشک اس معنی میں کہ ہم جو مرد ہیں ہمارے دلوں میں بھی یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اس ثواب سے کیوں محروم رہے کہ فلاں جگہ پر ایک مسجد بن رہی تھی کہ جس کے میناروں سے خدائے واحد و یگانہ کا نام بلند ہونا تھا اور نبی کریم ﷺ کی افضل ترین اور ارفع نبوت کا اعلان ہونا تھا ، ہم نے اس کے بنانے میں حصہ نہ لیا ہم ثواب سے محروم رہے اور سارا ثواب آپ نے اپنی جھولیوں میں سمیٹ لیا۔بہر حال اس قسم کے قابلِ رشک چندے بھی آپ بہنیں ادا کر رہی ہیں۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایک جہت ایسی ہے جس کی طرف آپ نے ابھی تک کوئی توجہ نہیں دی اور وہ یہ ہے کہ جس طرح سات سال کی عمر میں بچوں کو ( جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے ) نفلی نماز اس لئے صلى الله