خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 2 of 682

خطبات وقف جدید — Page 2

2 حضرت مصلح موعود کہ وادی مکہ ایک بے آب و گیاہ جنگل ہے اور وہاں کھانے پینے کو کچھ نہیں ملتا، اپنی بیوی اور بچے کو وہاں چھوڑ آئیں۔چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا۔جب حضرت اسمعیل علیہ السلام بڑے ہوئے تو آپ نے اپنی نیکی اور تقویٰ کے ساتھ اپنے گر دلوگوں کا ایک گروہ جمع کر لیا اور انھیں نماز اور صدقہ و خیرات کی تحریک کر کے اور اس طرح عمرہ اور حج کے طریق کو جاری کر کے آپ نے مکہ کو آباد کرنا شروع کیا۔چنانچہ ان کی قربانیوں کے نتیجہ میں صدیوں سے مکہ آباد چلا آتا ہے قریباً تین ہزار سال سے برابر خانہ کعبہ آباد ہے اور اس کا طواف اور حج کیا جاتا ہے۔پس عیدالاضحیہ کی قربانی بے شک اس قربانی کی یاد دلاتی ہے۔مگر اس قربانی کی یاد نہیں دلاتی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ظاہری شکل میں حضرت اسمعیل علیہ السلام کی گردن پر چھری پھیر دی در حقیقت قربانیوں کی عید ہمیں اس طرف توجہ دلاتی ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کی خاطر اور اس کے بعد دین کے لئے جنگلوں میں جائیں اور وہاں جا کر خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کریں اور لوگوں سے اس کے رسول کا کلمہ پڑھوائیں۔جیسا کہ ہمارے صوفیاء کرام کرتے چلے آئے ہیں۔اگر ہم ایسا کریں تو یقیناً ہماری قربانی حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کے مشابہ ہوگی ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ وہ قربانی بالکل حضرت اسمعیل کی قربانی کی طرح ہو جائے گی کیونکہ دلوں کی کیفیت مختلف ہوتی ہے حضرت اسمعیل کے دل کی حالت اور تھی اور ہمارے زمانے کے لوگوں کے دلوں کی حالت اور ہے۔مگر بہر حال وہ حضرت اسمعیل کی قربانی کے مشابہ ضرور ہو جائے گی۔پس تم اپنے آپ کو اس قربانی کے لئے پیش کرو۔میرے نزدیک اس زمانہ میں حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کے مشابہ قربانی وہ مبلغ کر رہے ہیں جو مشرقی اور مغربی افریقہ میں تبلیغ کا کام کر رہے ہیں۔وہ غیر آباد ملک ہیں جن میں کوئی شخص خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کا نام نہیں جانتا تھا لیکن ان لوگوں نے وہاں پہنچ کر انھیں خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کا نام بتایا۔میں پہلے بھی ایک خطبہ میں بتا چکا ہوں کہ مغربی افریقہ کے ایک ملک میں عیسائیوں نے اپنے پریس میں احمدی اخبار کا چھاپنا بند کر دیا تو ہمارے مبلغ انچارج جماعت کا علیحدہ پر یس لگانے کے سلسلے میں چندہ اکٹھا کرنے کے لئے ایک جگہ گئے۔وہاں انھیں ایک ایسا آدمی ملا جسے انھوں نے بڑی تبلیغ کی تھی مگر اس نے احمدیت قبول نہیں کی تھی۔بعد میں اس کے پاس ایک مقامی مبلغ پہنچا تو اس نے کہا کہ تمہارے بڑے پاکستانی مبلغ نے مجھے تبلیغ کی ہے۔لیکن اگر یہ دریا ( وہ اس وقت ایک دریا کے کنارے جا رہے تھے ) اپنا رخ پھیر کر الٹی طرف چل پڑے تو یہ بات ممکن ہے لیکن میرا احمدیت کو قبول کرنا ناممکن ہے۔لیکن کچھ دن اس مبلغ کی صحبت میں رہنے کا اس پر ایسا اثر ہوا کہ وہ احمدی ہو گیا ہمارے مبلغ انچارج کہتے ہیں کہ جب میں وہاں چندہ لینے گیا تو اتفا قاوہ شخص اس شہر