خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 67 of 682

خطبات وقف جدید — Page 67

67 وسام حضرت مصلح موعود صلى الله ہیں اور تیرے متعلق محمد رسول اللہ اللہ نے ہی خبر دی تھی کہ تو دنیا میں آئے گا اور اسلام کو دنیا میں غالب کرے گا ، اس لئے تیری فتح محمد رسول اللہ ﷺ کی فتح ہے اور محمد رسول اللہ علیہ کی فتح خدائے واحد کی فتح ہے ہم تیرے آگے جھنڈا ڈالتے ہیں کیونکہ تو نے ہمیں ہدایت دی تو آگے اسے محمد رسول اللہ ہے کے قدموں میں ڈال دے اور وہ آگے اسے خدا تعالیٰ کے حضور پیش کر دیں اور کہیں اے خدا تو نے مجھے تو حید کی اشاعت کے لئے دنیا میں بھیجا تھا میں نے وہ تو حید دنیا میں قائم کر دی اور پھر اس کے بعد میں نے تیری ہدایت اور تیرے دیئے ہوئے علم کے ماتحت ایک آنے والے موعود کی خبر دی جس نے اسلام کو ساری دنیا میں غالب کر دیا۔اب میں یہ اسلام کا جھنڈا تیری خدمت میں پیش کرتا ہوں یہ تو حید کا تحفہ ہے یہ اس بات کی علامت ہے کہ جو کام تو نے ہمارے سپرد کیا تھا اسے ہم نے پورا کر دیا ہے پس اس خوشی میں ہم یہ جھنڈا تیری خدمت میں پیش کرتے ہیں خدا کرے یہ مضمون ہمارے مبلغوں کے ذہن نشین ہو جائے اور وہ بس جلدی جلدی کام کریں ان میں سے بعض ست ہیں اور بعض پچُست ہیں ، جو سُست ہیں ان کو یا درکھنا چاہئے کہ انھوں نے ایک دن مرنا ہے قیامت کے دن ان کو کوئی عزت نہیں دی جائے گی لیکن جو پچست ہیں اور خدا تعالیٰ کی توحید کو دنیا میں پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ قیامت کے دن انھیں اپنے عرش کے دائیں طرف بٹھائے گا اور ان سے وہی سلوک کرے گا جیسے باپ اپنے بیٹے سے کرتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کو اپنی توحید سے ویسی ہی محبت ہے جیسے باپ کو اپنے بیٹے سے ہوتی ہے پس جب وہ خدا تعالیٰ کی توحید کو دنیا میں پھیلائیں گے تو خدا تعالیٰ بھی ان سے ویسی ہی محبت کرے گا جیسے باپ اپنے بیٹے سے محبت کرتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کو فرمایا کہ اَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيدِي وَ تَفْرِيدِی یعنی تو مجھے ایسا ہی پیارا ہے جیسے مجھے اپنی توحید اور تفرید پیاری ہے“۔آخر ساری دنیا سے عیسائیت اور شرک کا مٹانا کتنا بڑا کام ہے وہ صبح جسے عیسائیوں نے عرش پر بٹھا رکھا ہے اسے زمین پر نیچے اتار دینا معمولی آدمی کا کام نہیں تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عیسائیوں کے مصنوعی خدا کو عرش سے نیچے پھینک دیا اور اس کی اپنی قوم سے اقرار کروا لیا کہ مسیح ناصری نیچے تھے اور محمد رسول اللہ اللہ اونچے تھے۔مجھے یاد ہے کہ جب مجھ پر بیماری کا حملہ ہوا اور میں علاج کی غرض سے لنڈن گیا تو ایک بہت بڑا مصنف ڈسمنڈ شامیرے پاس آیا اور اس نے کہا شاید آپ مجھے پاگل قرار دیں گے کہ عیسائی ہو کر میں ایسی باتیں کرتا ہوں، یہ ٹھیک ہے کہ میں عیسائی ہوں لیکن مجھے یقین ہے کہ محمد رسول اللہ مسیح ناصری سے بڑے تھے۔محمد رسول اللہ ﷺ جو اعلیٰ تعلیم دنیا میں لائے وہ مسیح نا صرتی نہیں لائے تھے۔آپ حیران ہوں صلى الله