خطبات وقف جدید — Page 63
علوسام 63 حضرت مصلح موعود نے فرمایا وہ ٹھیک کہتی ہے۔انھوں نے کہا میری بیوی نے مجھے یہ بات بھی بتلائی ہے کہ آپ مجھے مسلمان ہونے پر مجبور نہیں کریں گے کیا یہ بات بھی سچ ہے؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے۔حضرت عکرمہ حیران ہوئے اور انھوں نے سمجھ لیا کہ جو شخص اتنے شدید دشمنوں کو بھی معاف کر سکتا ہے وہ جھوٹا نہیں ہو سکتا چنانچہ انھوں نے یہ بات سنتے ہی فوراً کہا اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ مَیں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اے محمد (ع) آپ اس کے بندے اور اسکے رسول ہیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا عکرمہ یہ کیا بات ہے ؟ عکرمہ نے کہا یا رسول اللہ میں آج تک آپ کا مخالف تھا اور مجھے یقین نہیں تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں لیکن آج آپ نے جو سلوک مجھ سے کیا ہے وہ خدا تعالیٰ کے رسولوں کے سوا اور کوئی نہیں کر سکتا۔میرے باپ اور دوسرے رشتہ داروں نے آپ کو تنگ کیا آپ کو مارا اور کئی مسلمانوں کو قتل کیا اور پھر یہیں تک بس نہیں کی بلکہ ہماری بعض عورتوں نے مسلمان شہیدوں کے کلیجے نکلوا کر کچے چبائے۔آپ کی بیٹی کو مدینہ جاتے ہوئے اونٹ سے گرایا جس کی وجہ سے ان کا حمل ساقط ہو گیا اور وہ خود بھی اسی صدمہ کی وجہ سے فوت ہو گئیں۔ان سب باتوں کے باوجود جب آپ کو غلبہ ملا تو آپ نے ہم سب کو معاف کر دیا یہ کام خدا تعالیٰ کے رسولوں کے سوا اور کوئی نہیں کر سکتا۔آپ کا یہ سلوک دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا ہے کہ آپ اللہ تعالی کے رسول ہیں اور اسی لئے میں نے کلمہ پڑھا ہے۔پھر دیکھ لو حضرت عکرمہنگا وہ کلمہ پڑھنا کیسا سچا تھا۔ایک موقع پر جب حضرت عمرؓ کے زمانے میں رومیوں سے مسلمانوں کی جنگ ہوئی تو حضرت خالد نے کہا دشمن کی ہر اول فوج ساٹھ ہزار کی ہے میں چاہتا ہوں کہ صرف ساٹھ مسلمان میرے ساتھ جائیں اور وہ مسلمان ایسے ہوں جو جان دینے کے لئے تیار ہوں۔حضرت ابو عبیدہ نے انھیں سمجھایا کہ خالد یہ بہت بڑی قربانی ہے۔سارے چیدہ چیدہ مسلمان مارے جائیں گے مگر حضرت خالد نے کہا کہ اگر ایسانہ کیا گیا تو ہمارا دشمن پر رعب نہیں پڑے گا چنانچہ حضرت ابو عبید گمان گئے اور جو ساٹھ آدمی منتخب کئے گئے ان میں حضرت عکرمہ بھی شامل تھے۔اس جنگ میں رومی لشکر کا کمانڈر انچیف ایک ایسا شخص تھا جس سے بادشاہ نے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ مسلمانوں کے مقابلہ میں جنگ جیت گیا تو وہ اسے اپنی آدھی سلطنت دے دے گا اور اپنی لڑکی اس کے نکاح میں دے دے گا۔چنانچہ ساٹھ آدمی حملہ کے لئے چلے گئے ان میں حضرت فضل بن عباس بھی شامل تھے ان لوگوں نے رومی لشکر پر اس تیزی سے حملہ کیا کہ گو دشمن ساٹھ ہزار کی تعداد میں تھا اور یہ صرف ساٹھ افراد تھے مگر دشمن گھبرا گیا اور یہ نہ سمجھ سکا کہ یہ ساٹھ آدمی انسان ہیں یا جن ہیں۔یہ لوگ لشکر کے عین وسط میں گھس گئے اور اس جگہ پر پہنچ گئے جہاں کمانڈر