خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 620 of 682

خطبات وقف جدید — Page 620

620 س ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز حضرت خلیق اس ال اس د الله: السی کی ہوئی تھی۔کسی ٹنل میں سے کوئی جلوس گزرا اس کی بڑی گونج تھی لگتا یہ تھا کہ بہت بڑا جلوس ہے اور آوازیں نکال رہا ہے۔لیکن لگتا ہے ان کو بھی ملاؤں کی ٹریننگ تھی کہ ٹیپ ریکارڈر استعمال کرو۔جو وہاں MP آئے ہوئے تھے انہوں نے بڑی حیرت سے اس بات کا اظہار کیا کہ میں تو ایک عرصے سے جماعت کو جانتا ہوں میرے خیال میں بھی نہیں تھا کہ جماعت احمدیہ کی مسجد کی مخالفت ہو رہی ہو گی۔یہ تو بڑی امن پسند اور پیار کرنے والی جماعت اور پیار پھیلانے والی جماعت ہے۔اخباروں اور ٹی وی نے بھی بڑی اچھی کوریج دی۔جیسا کہ میں پہلے بھی جرمنی کے خطبہ میں بتا چکا ہوں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے برلن میں مسجد کی تعمیر کی خواہش کا اظہار فرمایا تھا اور آپ کی بڑی شدید خواہش تھی۔اور اس وقت ایک ایکڑ رقبہ کا قریباً سودا بھی ہو گیا تھا بلکہ میرا خیال ہے لیا بھی گیا تھا اور آج کل کے حالات میں اتنا بڑا رقبہ ملنا ممکن نہیں ، کافی مشکل ہے کیونکہ زمینیں کافی مہنگی ہیں۔جرمنی میں عموماً جو پلاٹ مساجد کے لئے خریدے جارہے ہیں وہ بڑے چھوٹے ہوتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ فضل فرمایا کہ یہاں تقریباً ایک ایکڑ سے زائد کا رقبہ برلن کی مسجد کے لئے مل گیا ہے اور اللہ میاں نے بڑی سستی قیمت پر دلا دیا۔جبکہ باقی مساجد جو وہاں بن رہی ہیں اس سے چوتھے پانچویں حصے میں بن رہی ہیں۔پہلے میں یہ بتا دوں کہ حضرت مصلح موعودؓ کا جو اس وقت کا منصوبہ تھا وہ نقشہ دیکھ کے آدمی حیران ہوتا تھا۔600 نمازیوں کے لئے ہال کی گنجائش تھی ، مشن ہاؤس، گیسٹ ہاؤس، پھر اس میں 13 کمرے تھے جو سٹوڈنٹس کے لئے ، طلباء کے لئے رکھے گئے تھے، اب جو مسجد بن رہی ہے اس کے نقشے میں بھی تقریباً 500 نمازیوں کے لئے گنجائش ہو گی اسی طرح باقی چیزیں ہیں۔اور اگر فوری نہیں تو بعد میں کبھی جب بھی سہولت ہو، انشاء اللہ تعالیٰ اس کو وسعت دی جاسکتی ہے۔1923ء میں جب تحریک ہوئی تھی تو لجنہ اماءاللہ نے تعمیر کے لئے رقم جمع کی تھی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا تھا کہ کیونکہ یورپ میں عورتوں کے بارے میں یہ خیال ہے کہ ہم میں عورت جانور کی طرح سمجھی جاتی ہے۔جب یورپ کو یہ معلوم ہوگا کہ اس وقت اس شہر میں جو دین کا مرکز بن رہا ہے اس میں مسلمان عورتوں نے جرمنی کے نو مسلم بھائیوں کے لئے مسجد تیار کروائی ہے تو کس قدر شرمندہ اور حیران ہوں گے۔تو جرمنی کی لجنہ کو جب یہ علم ہوا کہ پہلی کوشش مسجد کی تعمیر کی تھی اور عورتوں کی قربانیوں سے بنی تھی تو لجنہ جرمنی نے کہا کہ ہم اس مسجد کا خرچ برداشت کریں گی جو تقریباً ڈیڑھ ملین سے 2 ملین یورو کے قریب ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو جزاء دے اور ان کے مال ونفوس میں برکت ڈالے اور جلد سے جلد اپنا یہ وعدہ پورا کر سکیں تا کہ اپنا وعدہ پورا کر کے دوسرے