خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 619 of 682

خطبات وقف جدید — Page 619

619 حضرت عليها اسم الفساد العالی بنصرہ العزیز جرمنی ہالینڈ کے بارڈر پر ہے واپس آتے ہوئے اس کا افتتاح ہوا۔وہ ابھی مکمل نہیں ہوئی لیکن ان کی خواہش تھی کہ اس میں نماز پڑھ لی جائے اسی کو ہم افتتاح سمجھیں گے، اس کی تھوڑی سی (Finishing) فنیشنگ رہتی ہے تو وہ انشاء اللہ تعالیٰ جلدی کر لیں گے۔وہاں ایک بہت بڑی مسجد مجلس انصاراللہ جرمنی نے بنائی ہے۔اس میں تقریباً سات آٹھ سونمازی نماز پڑھ سکتے ہیں اور مسجد کے طور پر جرمنی میں یہ سب سے بڑی مسجد ہے جو خاص اس مقصد کے لئے بنائی گئی ہے۔ہال وغیرہ نہیں بلکہ زمین پہ خاص طور پر مسجد کے مقصد کے لئے جو مسجد کھڑی کی گئی ہے، وہ ابھی تک جرمنی میں یہی بڑی مسجد ہے۔اس کے ساتھ گیسٹ ہاؤس بھی ہے، مشنری ہاؤس بھی ہے، دفتر وغیرہ بھی ہیں۔پھر جیسا کہ آپ سب لوگ جانتے ہیں کہ سب سے بڑا بریک تھرو (Break Through) یا بڑی کامیابی جو ہے وہ مسجد برلن کا سنگ بنیاد تھا۔وہاں مخالفت زوروں پر ہے۔ابھی بھی مخالفین یہی کہتے ہیں کہ ہم اس مسجد کو بنے نہیں دیں گے اور اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔گو کہ انتظامیہ کا خیال ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ ایسی کوئی بات نہیں ہوگی کیونکہ قانونی تقاضے پورے ہور ہے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ ہر طرح سے مددفرماتا ہے اور یہ نظارے ہم دیکھتے رہے۔پہلے امیر صاحب کا خیال تھا کہ ایک مہینہ پہلے جلدی آ جاؤں تا کہ مسجد کا سنگ بنیا در کھا جائے۔لیکن جب دسمبر میں میں نے جانے کا فیصلہ کیا تو اس وقت تک ان کو مسجد کی تحریری اجازت نہیں ملی تھی۔تحریری اجازت بھی میرے جانے کے بعد انہیں ملی ہے تو اس کے بعد کوئی قانونی روک نہیں تھی۔اس کے بغیر اگر ہم جاتے تو کئی قباحتیں پیدا ہو سکتی تھیں اور بنیا درکھنا بھی ممکن نہیں تھا۔پھر وہاں کے میئر اور MP آئے اور انہوں نے بھی جماعت کی تعلیم کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ہمارے لوگوں کی ساری فکر میں دور ہو جائیں گی۔جس دن افتتاح تھا جب ہم وہاں گئے ہیں تو چالیس پچاس کے قریب مخالفین تھے جو نعرے لگا رہے تھے۔لیکن جرمنی میں ایک دوسرا گروپ بھی ہمیں نظر آیا۔جب ہم گئے ہیں انہوں نے بھی بینر اٹھایا ہوا تھا اور وہ جماعت احمدیہ کے حق میں تھا کہ یہاں جماعت ضرور مسجد بنائے اور اس میں کوئی روک نہ ڈالی جائے۔جماعت نے ان کو نہیں کہا تھا اور نہ وہ جانتے تھے۔خود ہی کھڑے ہو گئے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ نے مخالفین کے توڑ کے لئے خود ہی وہاں انتظام فرما دیا۔پھر یہ جوان کا چھوٹا سا جلوس تھا اس پر بھی تین چار شہریوں نے ان کے بینز چھینے کی کوشش کی کہ یہ کیوں کر رہے ہو۔اللہ تعالیٰ نے خود ہی ایسا سامان پیدا کر دیا کہ مخالفین کو ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ان کے اپنے لوگ ہی ان کو روکنے والے تھے۔جو مخالفین تھے (لوگ اتنے زیادہ تو تھے نہیں) انہوں نے ایک ٹیپ ریکارڈر میں ایک آواز ریکارڈ