خطبات وقف جدید — Page 583
583 حضرت لعليم المس ام اس داد اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز قرآن حدیث کا علم بھی ہے۔تو پتہ ہے کہ میں نے تھیلی کا منہ بند کیا تو کہیں مستقل بند ہی نہ ہو جائے اس لئے فوراً کہا کہ یہ تو میں نے کرنا ہے۔اور بہت سے دوسرے اخراجات بھی ہیں کسی کو میں نے روکا نہیں ہے۔آگے آئیں اور کریں۔پھر ایک ابراہیم بونسو صاحب ہیں۔یہ بھی بڑی قربانی کرنے والے ہیں۔اکرا کے قریب انہوں نے ایک بہت مہنگی جگہ پر جماعت کے لئے قبرستان اور بہشتی مقبرے کے لئے جگہ لے کر دی ہے اور بھی بہت سارے ہیں جو اپنی اپنی طاقت کے مطابق قربانی کرنے والے ہیں۔پھر دوسرے ملکوں میں بھی ہیں انڈونیشیا میں بھی ہیں۔یورپ اور امریکہ میں بھی ہیں۔اب زلزلہ زدگان کے لئے جب میں نے جماعت کو کہا تھا کہ مدد کریں جو آج کل انڈونیشیا سری لنکا میں زلزلہ کے اثرات ہیں بڑا جانی نقصان ہوا ہے۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت نے ہر جگہ بڑے پرزور طریقے سے اس میں حصہ لیا ہے۔لبیک کہا اور آگے آئے۔امریکہ میں ایک جماعت نے 35-36 ہزار ڈالرز ا کٹھے کئے تھے تا کہ وہاں بھجوائے جاسکیں۔تو و ہیں کے ایک صاحب حیثیت شخص نے کہا کہ اتنی ہی رقم میں دیتا ہوں۔چنانچہ انہوں نے اتنی ہی رقم ڈال کر اس کو دو گنا کر دیا۔35-36 ہزار ڈالرز فوراً ادا کر دیئے۔تو یہ صرف اس لئے کہ جماعت کو قربانی کی عادت ہے اور پتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قربانیوں کے پھل دیتا ہے اور اس نے اپنے وعدوں کے مطابق یقیناً پھل دیتے ہیں۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضور ﷺ نے ایک بار نماز عید پڑھائی آپ کھڑے ہوئے نماز سے آغا ز کیا اور پھر لوگوں سے خطاب کیا ، جب آپ فارغ ہو گئے تو آپ منبر سے اترے اور عورتوں میں تشریف لے گئے اور انہیں نصیحت فرمائی۔آپ اس وقت حضرت بلال کے ہاتھ کا سہارا لئے ہوئے تھے۔اور حضرت بلال نے کپڑا پھیلایا ہوا تھا جس میں عورتیں صدقات ڈالتی جا رہی تھیں۔(بخاری کتاب العيدين باب موعظة الامام النساء يوم العيد) تو اسلام میں مالی قربانی کی مثالیں صرف مردوں تک ہی محدود نہیں ہیں۔بلکہ اس پیاری تعلیم اور جذبہ ایمان کی وجہ سے عورتیں بھی مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہی ہیں اور لیتی ہیں اور اپناز یورا تار اتار کر پھینکتی رہی ہیں اور آج پہلوں سے ملنی والی جماعت میں یہی نمونے ہمیں نظر آتے ہیں۔اور عورتیں اپنے زیور آ آ کر پیش کرتی ہیں۔عموماً عورت جو شوق سے زیور بنواتی ہے اس کو چھوڑ نا مشکل ہوتا ہے لیکن احمدی عورت کا یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ یہی ہے کہ اپنی پسندیدہ چیز پیش کی جائے۔