خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 582 of 682

خطبات وقف جدید — Page 582

582 حضرت خلیل اس حالا ما ا د الله تعالى بصرہ العزیز ابو بکر کو نصیحت فرمائی کہ اللہ کی راہ میں گن گن کر خرچ نہ کیا کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر ہی دیا کرے گا۔اپنی روپوں کی تفصیلی کا منہ بند کر کے کنجوسی سے نہ بیٹھ جاؤ ورنہ پھر اس کا منہ بند ہی رکھا جائے گا فرمایا کہ جتنی طاقت ہے کھول کر خرچ کرو، اللہ پر توکل کرو، اللہ دیتا چلا جائے گا۔(بخارى كتاب الزكواة باب الصدقة في ما استطاعة) تو جن احمدیوں کو اس راز کا علم ہے۔وہ اتنا بڑھ چڑھکر چندہ دے رہے ہوتے ہیں کہ بعض دفعہ انہیں روکنا پڑتا ہے لیکن ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ آپ لوگ ہماری تھیلیوں کا منہ بند کرنا چاہتے ہیں؟ ہم نے اپنے خدا سے ایک سودا کیا ہوا ہے آپ اس کے بیچ میں حائل نہ ہوں۔یہ اظہار دنیا میں ہر جگہ ہر قوم میں نظر آتا ہے۔اور احمدی معاشرے میں ہر قوم میں نظر آنا چاہیے۔جن میں کی ہے ان کو بھی اس کی طرف توجہ دینی چاہیے۔اور اللہ کے فضل سے بڑی تعداد ایسی ہے جو اس رویے کا اظہار کرتی ہے چاہے وہ افریقہ کے غریب ممالک ہوں یا امیر ممالک۔یہ نہ کوئی سمجھے کہ افریقہ کے غریب لوگ صرف اپنے پر خرچ ہی کرواتے ہیں ان میں بھی بڑے بڑے اعلیٰ قربانی کرنے کے معیار قائم کرنے والے ہیں اور حسب توفیق دوسرا چندہ دینے والے بھی ہیں۔اب گھانا کی مثال میں دیتا ہوں۔ہمارے بڑے اعلیٰ قربانی کرنے والے بھی ہیں ،ایک ہمارے یوسف آڈوسٹی صاحب ہیں وہ لوکل مشنری بھی تھے، بلکہ اب بھی ہیں لیکن آنریری۔وہ کچھ دوائیاں وغیرہ بھی بنایا کرتے تھے۔چھوٹا سا شاید کاروبار تھا۔اور وہ بیمار بھی تھے ان کی ٹانگ میں ایک گہرا زخم تھا جو ہڈی تک چلا گیا تھا۔بڑی تکلیف میں رہتے تھے۔تو حضرت خلیفہ اصیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے علاج اور دعا سے اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا ، زخم ٹھیک ہو گیا۔اور اس کے بعد انہوں نے پہلے سے بڑھ کر جماعت کی خدمت کرنا شروع کر دی۔اور کاروبار میں بھی کیونکہ ان کو کچھ جڑی بوٹیاں بنانے کا شوق تھا تو ایسی دوائیاں بنیں جن سے کاروبار خوب چمکا اور پیسے کی ایسی فراوانی ہوئی کہ جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے لیکن یہ اس پیسے پر بیٹھ نہیں گئے ، بلکہ اپنے وعدے کے مطابق جماعت کے لئے بے انتہا خرچ کیا اور کر رہے ہیں۔مختلف عمارات اور مساجد بنوائیں۔اور بڑی بڑی شاندار مسجدیں بنوائیں ، چھوٹی چھوٹی مسجد میں نہیں اور اب بھی ہمہ وقت قربانی کے لئے تیار ہیں۔گزشتہ سال جب میں دورے پر گیا تھا تو کسی خرج کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا یہ میں نے کرنا ہے کیونکہ آج کل دنیا میں کاروباری حالات کچھ خراب ہیں مجھے اپنے طور پر پتہ لگا تھا کہ ان کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے، کاروبار اب اتنا زیادہ نہیں ہے۔ان پر بھی حالات کا اثر ہے۔تو میں نے ان کو کہا کہ کسی اور کو بھی ثواب لینے کا موقع دیں۔سارے کام خود ہی کرواتے جارہے ہیں۔لیکن دینی علم تھا۔