خطبات وقف جدید — Page 580
580 حضرت عليها اسم الفساد العالی بنصرہ العزیز لیکن کیونکہ یہ رقم نیک نیتی سے دی گئی ہوتی ہے اس لئے اس میں اتنی برکت پڑتی ہے جو نیا دار تصور بھی نہیں کر سکتا۔جماعت کی معمولی سی کوشش و کاوش ایسے حیرت انگیز نتیجے ظاہر کرتی ہے جو ایک بے دین اور دنیا دار کی سینکڑوں سے زیادہ کوشش سے بھی ظاہر نہیں ہوتی۔صرف اس لئے کہ غیر مومنوں کے اعمال کی زمین پتھریلی ہے۔اور ایک مومن کے دل کی زمین زرخیز اور تقویٰ کے اونچے معیاروں پر قائم ہے۔اور اس تقویٰ کی قدر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ان قربانی کرنے والوں کو انفرادی طور پر بھی نوازتا ہے اور جماعتی طور پر بھی ان کی جیب سے نکلے ہوئے تھوڑی سی رقم کے چندے میں بھی بے انتہا برکت پڑتی ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تو تمہارے دل پر بھی نظر ہے اور تمہاری گنجائش پر بھی نظر ہے۔وہ جب تمہاری قربانی کے معیار دیکھتا ہے تو اپنے وعدوں کے مطابق اس سے حاصل ہونے والے فوائد اور ان کے پھل کئی گنا بڑھا دیتا ہے اور یہی جماعت کے پیسے میں برکت کا راز ہے جس کی مخالفین کو کبھی سمجھ نہیں آسکتی۔کیونکہ ان کے دل چٹیل چٹانوں کی طرح ہیں، پتھروں کی طرح ہیں جن میں نہ زیادہ بارش نہ کم بارش برکت ڈالتی ہے۔برکت ان میں پڑہی نہیں سکتی۔پس یہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والوں کا ہی خاصہ ہے اور آج دنیا میں اس سوچ کے ساتھ قربانی کرنے والی سوائے جماعت احمدیہ کے اور کوئی نہیں اور یقیناً یہی لوگ قابل رشک ہیں اور اللہ کے رسول نے ایسے ہی لوگوں پر رشک کیا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دو شخصوں کے سوا کسی پر رشک نہیں کرنا چاہیے۔ایک وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے اسے راہ حق میں خرچ کر دیا، دوسرے وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے سمجھ ، دانائی اور علم و حکمت دی جس کی مدد سے وہ لوگوں کے فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو سکھاتا ہے۔(بخاری کتاب الزکواۃ باب انفاق المال في حقه ) تو یہ علم و حکمت بھی ایک نعمت ہے۔ہمارے مخالفین جو ہر وقت اس بات پر پیچ و تاب کھاتے رہتے ہیں کہ جماعت کے افراد چندہ کیوں دیتے ہیں۔چندہ ہم اپنی جماعت کو دیتے ہیں، تمہیں اس سے کیا ؟ کبھی ی شور ہوتا ہے کہ فلاں دکانداروں کا بائیکاٹ ہو جاتا ہے کہ ان سے چیز نہیں خرید نی کہ وہ جو منافع ہے اس پر چندہ دے دیں گے۔تمہارے پیسے سے چندہ جائے گا ! ؟۔ہمارے شیزان جوس کے خلاف اکثر بڑا محاذ اٹھتا رہتا ہے کہ یہ چندہ دیتے ہیں اور حکومت کو بھی یہ مشورہ ہوتا ہے اور مخالفین کا یہ مطالبہ ہے کہ جماعت کے تمام فنڈ حکومت اپنے قبضے لے لے۔تو یہ بیچارے حسد کی آگ میں جلتے رہتے ہیں کیونکہ ان کی چھٹیل زمین میں یہ برکت پڑہی نہیں سکتی۔اور پھر سوائے حسد کے ان کے پاس اور کچھ رہ نہیں جاتا۔ہم تو اس بات پر خوش ہیں کہ اللہ کے حکموں پر عمل کر رہے ہیں اور اس بات سے اللہ کے رسول