خطبات وقف جدید — Page 579
579 حضرت علیه السحب الخمس ايد الدلالی بنصرہ العزیز یعنی جو لوگ چندہ دینے والے ہیں ، صدقہ دینے والے ہیں ان کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنا ہے۔اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر جو کچھ بھی تم خرچ کرو گے اور اسکی مخلوق کی خاطر جو کچھ بھی خرچ کرو گے وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا باعث بنے گا۔اس سے دین کو بھی مضبوطی حاصل ہوگی اور تمہارے دینی بھائیوں کو بھی مضبوطی حاصل ہوگی۔پھر ایسے لوگوں کی مثال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جولوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس سرسبز باغ کی طرح ہیں جو اونچی جگہ پر واقع ہو جہاں انہیں تیز بارش یا پانی کی زیادتی بھی فائدہ دیتی ہے۔نچلی زمینوں کی طرح اس طرح نہیں ہوتا کہ بارشوں میں فصلیں ڈوب جائیں یا باغ ڈوب جائیں۔یہ خراب نہیں ہو جاتے بلکہ وہ ایسے سیلابوں سے محفوظ رہتے ہیں اور زائد پانی نیچے بہہ جاتا ہے اور باغ پھلوں سے لدارہتا ہے ،اس کو نقصان نہیں پہنچتا۔جولوگ زمیندار ہیں زمیندارہ جانتے ہیں ان کو پتہ ہے کہ اگر پانی میں درخت زیادہ دیر کھڑا ر ہے تو جڑیں گلنی شروع ہو جاتی ہیں ، تنے گل جاتے ہیں اور پودے مرجاتے ہیں اور اسی طرح جو زمینیں پانی روکنے والی ہیں ان میں بھی یہی حال ہوتا ہے۔تو بہر حال اس جذ بہ قربانی کی وجہ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ٹھہرو گے۔یہ بڑھ چڑھ کر قربانی کرنے کا جذبہ پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وجہ سے اور زیادہ پھل لانے کا تمہارے اموال ونفوس میں برکت کا باعث بنتا ہے۔اگر کبھی حالات موافق نہ بھی ہوں ، بارشیں نہ بھی ہوں، تو بھی۔اگر زیادہ بارشیں ہوں تو بھی نقصان دہ ہوتی ہیں اور کم بارشیں ہوں تو بھی نقصان دہ ہوتی ہیں۔لیکن ایک اچھی زرخیز زمین پر جو محفوظ زمین ہو، زیادہ بارشیں نہ بھی ہوں تو تب بھی ان کو ہلکی نمی جو رات کے وقت پہنچتی رہتی ہے یہ بھی فائدہ دیتی ہے۔تو فرمایا کہ اگر ایسے حالات بہتر نہیں بھی تو تب بھی اللہ تعالیٰ تمہاری اس قربانی کی وجہ سے جو تم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کیلئے کر رہے ہو تمہاری تھوڑی کوششوں میں بھی اتنی برکت ڈال دیتا ہے کہ پھلوں کی کوئی کمی نہیں رہتی۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور برکتوں کی کوئی کمی نہیں رہتی۔تمہارا کسی کام کو تھوڑا سا بھی ہاتھ لگانا اس میں برکت ڈال دیتا ہے کیونکہ تمہاری نیت یہ ہوتی ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے اس کی خاطر خرچ کرنا ہے۔جماعتی طور پر بھی اگر دیکھیں تو بڑی بڑی رقمیں چندوں میں دینے والے تو چند ایک ہی ہوتے ہیں۔اول تو اگر دنیا کی امارت کا آج کا معیار لیا جائے تو جماعت میں اتنے امیر ہیں ہی نہیں۔لیکن پھر بھی جو زیادہ بہتر حالت میں ہیں وہ چند ایک ہی ہوتے ہیں۔اور اکثر جماعت کے افراد کی تعدا د درمیانے یا اوسط درجے بلکہ اس سے بھی کم سے تعلق رکھتی ہے۔تو ایسے لوگوں کی جو معمولی سی قربانی کی کوشش ہوتی ہے وہ جماعتی اموال کو اتنا پانی لگا دیتی ہے کہ اس نے نمی پہنچ جائے جتنا شبنم کے قطرے سے پودے کو پانی ملتا ہے۔