خطبات وقف جدید — Page 544
544 حضرت خلیفة المسیح الرابع ابتلا کے طور پر تو وہ رزق ہے جس کو اللہ تعالیٰ سے کوئی واسطہ نہیں رہتا بلکہ یہ رزق انسان کو خدا سے ڈور ڈالتا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کو ہلاک کر دیتا ہے۔اسی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ کر کے فرمایا ہے لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ تمہارے مال تم کو ہلاک نہ کر دیں۔اور رزق اصطفاء کے طور پر وہ ہوتا ہے جو خدا کے لئے ہو۔ایسے لوگوں کا متولی خدا ہو جاتا ہے اور جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے وہ اس کو خدا ہی کا سمجھتے ہیں اور اپنے عمل سے ثابت کر دکھاتے ہیں۔صحابہ کی حالت دیکھو ! جب امتحان کا وقت آیا تو جو کچھ کسی کے پاس تھا اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دیا۔حضرت ابوبکر صدیق سب سے اول کمبل پہن کر آگئے۔پھر اس کمبل کی جزا بھی اللہ تعالیٰ نے کیا دی کہ سب سے اوّل خلیفہ وہی ہوئے۔غرض یہ ہے کہ اصلی خوبی ، خیر اور روحانی لذت سے بہرہ ور ہونے کے لئے وہی مال کام آسکتا ہے جو خدا کی راہ میں خرچ کیا جاوے۔“ الحکم جلد 3 نمبر 22 بتاریخ 23 /جون 1899 ء صفحہ اول) اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک رؤیا بیان کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں: میں نے خواب میں ایک فرشتہ ایک لڑکے کی صورت میں دیکھا جو ایک اونچے چبوترہ پر بیٹھا ہوا تھا اور اس کے ہاتھ میں ایک پاکیزہ نان تھا جو نہایت چمکیلا تھا۔وہ نان اس نے مجھے دیا اور کہا یہ تیرے لئے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کے لئے ہے۔یہ اس زمانہ کی خواب ہے جب کہ میں نہ کوئی شہرت اور نہ کوئی دعویٰ رکھتا تھا اور نہ میرے ساتھ درویشوں کی کوئی جماعت تھی مگر اب میرے ساتھ بہت سی وہ جماعت ہے جنہوں نے خود دین کو دنیا پر مقدم رکھ کر اپنے تئیں درویش بنادیا ہے۔اور اپنے وطنوں سے ہجرت کر کے اور اپنے قدیم دوستوں اور اقارب سے علیحدہ ہو کر ہمیشہ کے لئے میری ہمسائیگی میں آ آباد ہوئے ہیں اور نان سے میں نے یہ تعبیر کی تھی کہ خدا ہمارا اور ہماری جماعت کا آپ متکفل ہوگا اور رزق کی پریشانگی ہم کو پراگندہ نہیں کرے گی۔چنانچہ سال ہائے دراز سے ایسا ہی ظہور میں آرہا ہے۔( تذکرہ صفحہ 14) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حقیقۃ الوحی میں جو نشانات تحریر فرماتے ہیں ان میں سے 122 نمبر پر یہ نشان ہے۔عرصہ تمہیں برس کے قریب گزرا ہے کہ ایک مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک