خطبات وقف جدید — Page 542
542 حضرت خلیفہ امسیح الرابع کی وجہ سے اجر ملے گا جبکہ اس کے خاوند کو بھی اسکا اجر ملے گا کیونکہ وہ مال وہی کما کر لایا ہے۔(بخاری کتاب الزكواة باب اجر المرأة اذا تصدقت او اطمعت من بيت زوجها۔۔۔۔۔۔) اب شرط اسکی یہی ہے کہ مال خاوند نے کمایا ہو۔بعض لوگ بیویوں کی کمائی پر بیٹھے رہتے ہیں اور کھانا کھاتے ہیں اور اس میں جو وہ خرچ کرتے ہیں اور ان کا کوئی خرچ نہیں ہے۔اصل خرج وہی ہے جو خاوند کما کر لائے اور اسمیں سے بیوی ہاتھ روک کر کچھ بچائے اور پھر صدقہ و خیرات کرے تو اس کی جزا دونوں کوملتی ہے، خاوند کو بھی اور بیوی کو بھی۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔”اے ایمان والو! تم ان مالوں میں سے لوگوں کو بطریق سخاوت یا احسان یا صدقہ وغیرہ دو، جو تمہاری پاک کمائی ہے یعنی جس میں چوری یا رشوت یا خیانت یا غبن کا مال یا ظلم کے روپیہ کی آمیزش نہیں۔اور یہ قصد تمہارے دل سے دور رہے کہ نا پاک مال لوگوں کو دو اور دوسری بات یہ ہے کہ اپنی خیرات اور مروت کو احسان رکھنے اور دُکھ دینے کے ساتھ باطل مت کرو یعنی اپنے ممنون منت کو کبھی یہ نہ جتلاؤ کہ ہم نے تجھے یہ دیا تھا اور نہ اسکو دکھ دو کہ اس طرح تمہارا احسان باطل ہوگا۔اور نہ ایسا طریق پکڑو کہ تم اپنے مالوں کو ریا کاری کے ساتھ خرچ کرو سچے نیکوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ۔۔۔وہ تکلیفوں اور کم آمدنی کی حالت میں اور قحط کے دنوں میں سخاوت سے تنگ دل نہیں ہو جاتے بلکہ تنگی کی حالت میں بھی اپنے مقدور کے موافق سخاوت کرتے رہتے ہیں۔وہ کبھی پوشیدہ خیرات کرتے ہیں اور کبھی ظاہر۔پوشیدہ اسلئے کہ تاریا کاری سے بچیں اور ظاہر اس لئے کہ تا دوسروں کو ترغیب دیں۔خیرات اور صدقات وغیرہ پر جو مال دیا جائے اس میں یہ لوظ رہنا چاہیے کہ پہلے جس قدر محتاج ہیں ان کو دیا جائے۔ہاں جو خیرات کے مال کا تعہد کریں یا اس کے لئے انتظام و اہتمام کریں ، ان کو خیرات کے مال سے کچھ مال مل سکتا ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 357،356) مطلب ہے اب خیرات کے مال کا انتظام کرنے والے جولوگ ہیں ان کیلئے خواہ صدقہ اکٹھا کر رہے ہوں اس مال میں سے کچھ اپنی ذات پر خرچ کرنا اپنی ضرورت کے لئے یہ ان کیلئے صدقہ ہر گز نہیں ہے۔یہ اپنے کام کی محنت کا اجر ہے۔اور نیز کسی کو بدی سے بچانے کیلئے بھی اس مال میں سے دے سکتے ہیں ایسا ہی وہ مال