خطبات وقف جدید — Page 529
529 حضرت خلیفة المسیح الرابع حضور نمو پاتی ہیں۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اقتباسات میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔فرمایا۔”اور یقینا سمجھو کہ صرف یہی گناہ نہیں کہ میں ایک کام کے لئے کہوں اور کوئی شخص میری جماعت میں سے اس کی طرف کچھ التفات نہ کرے بلکہ خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ بھی گناہ ہے کہ کوئی کسی قسم کی خدمت کر کے یہ خیال کرے کہ میں نے کچھ کیا ہے“۔( مجموعہ اشتہارات جدید ایڈیشن جلد 2 صفحہ 614 اشتہار تمبر 1903ء) اب یہ بھی معرفت کی بات ہے خدمت کی توفیق کسی کومل جائے اور وہ اپنے زعم میں یہ سمجھے کہ میں صلى الله نے کچھ کر دیا ہے یہ بدی بن جاتی ہے اور خدمت نہیں رہتی۔پس ہر انسان کو یہی سمجھنا چاہئے کہ جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ کی عطا تھی۔اس میں سے کچھ میں نے خرچ کر دیا اور بہت سا اپنے لئے بھی رکھ لیا۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ مجھے کچھ اپنی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق عطا ہوئی۔اور جو خرچ اس دنیا میں انسان خدا کی راہ میں کرتا ہے آنحضور ﷺ کی ایک اور حدیث کے مطابق وہی ہے جو اس کا ہے۔جو اس نے بچوں کے لئے پیچھے چھوڑ دیا وہ اس کا نہ رہا۔جو اس نے خرچ کر دیا وہ تلف ہو گیا لیکن جو اس کا ہے وہ خدا کے حضور اس کو ملے گا اور بڑھ چڑھ کر ملے گا، بڑھا چڑھا کر دیا جائے گاوہ وہی مال ہے جو انسان خدا کی خاطر خرچ کرتا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔” صدقات ایسی چیزیں ہیں کہ ان سے دنیوی منازل طے ہو جاتی ہیں اخلاق فاضلہ پیدا ہو جاتے ہیں اور بڑی بڑی نیکیوں کی توفیق دی جاتی ہے“۔الحکم 24 فروری 1901ء نمبر 7 جلد 5 صفحه (2) اب خرچ کرنے سے صرف یہ مقصد نہیں کہ مال میں برکت پڑتی ہے بلکہ اخلاق فاضلہ پیدا ہوتے ہیں اور یہ بہت گہری بات ہے کہ جب انسان خدا کی خاطر خرچ کرتا ہے اس کے اخلاق میں بھی ترقی ہوتی ہے اور پھر ایک نیکی اور بڑی بڑی نیکیوں کی توفیق عطا فرماتی چلی جاتی ہے۔چنانچہ بہت سے لوگ ہیں جنھوں نے تھوڑا سا دینا شروع کیا اور رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ان کو تھوڑے کا ایسا چسکا پڑا کہ اس کے بعد زیادہ پھر اور زیادہ پھر اور زیادہ دینا شروع کر دیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بات بہت ہی صحیح فرمائی ہے کہ نیکیاں مال خرچ کرنے کے نتیجے میں عطا ہوتی ہیں اور بڑھتی چلی جاتی ہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔وو چاہئے کہ ہماری جماعت کا ہر ایک متنفس عہد کرے کہ میں اتنا چندہ دیا کروں گا۔کیونکہ