خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 528 of 682

خطبات وقف جدید — Page 528

528 حضرت خلیفہ المسیح الرابع جو تشریح ملتی ہے کہ خدا کی راہ میں نہ مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے نہ علم خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے۔علم میں جو کی نہیں آتی اس کو دنیا والے بھی سمجھتے ہیں کہ علم کی تقسیم سے علم بڑھتا ہے کم نہیں ہوتا مگر مال کے متعلق ان کو سمجھ نہیں آتی کہ یہ کیسے بڑھتا ہے مگر آنحضور ﷺ نے جو کچھ بھی فرمایا ہے برحق ہے اور ہمیں اپنی جماعت کے تجربے سے پتہ ہے کہ خدا کی راہ میں مال خرچ کرنے والوں کے مال کم نہیں ہوا کرتے بڑھا کرتے ہیں۔حضرت ابوھریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ کا بندہ جتنا کسی کو معاف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اتنا ہی زیادہ اسے عزت میں بڑھاتا ہے۔جتنی زیادہ کوئی تواضع اور خاکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اتنا ہی اسے بلند مرتبہ عطا کرتا ہے۔“ (مسلم کتاب البر وصلة باب استجاب العفو و التواضع) یہاں رفع کا ذکر بھی ہے رقعہ اللہ اور اس کو ہم حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے رفع کے متعلق بھی ایک نظیر کے طور پر پیش کیا کرتے ہیں۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ خدا ایک زنجیر کے ذریعے اپنے متواضع بندے کو اٹھاتا ہے اس کا رفع کرتا ہے اور ساتویں آسمان تک پہنچا دیتا ہے۔کبھی یہ تو نہیں دیکھا ہم نے کہ کوئی بندہ سجدے میں گیا ہو اور کوئی زنجیر اترے اور اس کو اٹھا کے لے جائے مراد یہ ہے کہ ساتویں آسمان تک اس کی نیکیوں کی بنائی ہوئی زنجیر ، اس کے تقویٰ کی زنجیر ، اس کی فنافی اللہ کی زنجیر ، جتنا بھی اس کا مرتبہ مقرر کرتی ہے اتنا ہی وہ اٹھ جاتا ہے یہاں تک کہ آخری حد سا تواں آسمان ہے اور اس سے اونچا رفع سوائے آنحضرت ﷺ کے اور کسی کا نہیں ہوا۔حضرت خریم بن فاتک بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے علوسام میں کچھ خرچ کرتا ہے اسے اس کے بدلہ میں سات سو گنا زیادہ ثواب ملتا ہے۔(ترمذی کتاب فضائل الجهاد باب ماجاء في فضل النفقة في سبيل الله) تو یہاں سات سو گنا کے متعلق بھی جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں کئی دفعہ یہ بات آپ کو سمجھائی جا چکی ہے کہ سات کا لفظ مراد یہ نہیں کہ سات سو گنا واقعہ ملتا ہے جہاں قرآن کریم نے سات بالیوں کی مثال دی ہے، ایک دانے سے سات بالیاں نکلیں ان میں سات سودانے ہوں وہاں ساتھ یہ بھی اللہ نے فرمایا ہے کہ جس کے لئے چاہے اس کو بڑھا بھی دیتا ہے۔تو پہلی کھجور والی حدیث تھی وہ اور دوسری احادیث کو پیش نظر رکھتے ہوئے صاف پتہ چلتا ہے کہ سات سو کا لفظ ایک محاورہ بھی ہے اور عرفِ عام میں زمینداروں کے تجربہ میں بھی یہ بات آجاتی ہے کہ ایک دانہ سات سودانوں میں تبدیل ہو جائے لیکن اصل جو بنیادی بات ہے وہ یہی ہے کہ نیکیاں ہیں جو بڑھتی ہیں اور سات سو گنا نہیں بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ اللہ تعالیٰ کے