خطبات وقف جدید — Page 527
527 حضرت خلیفہ مسیح الرابع پس یہ جو عادت ہے لوگوں سے مانگنے کی خواہ زبانِ حال سے ایسی شکل بنا کے مانگا جائے کہ بظاہر نہ بھی مانگوتب بھی مانگنا ہی مراد ہو یہ نا پسندیدہ بات ہے اس سے مال میں برکت کبھی نہیں پڑتی۔ہمیشہ اس الله سے اموال میں کمی آتی ہے چنانچہ آنحضور ﷺ نے مانگنے کی عادت کی بڑی وضاحت کے ساتھ نہی فرمائی ہے۔ہرگز مانگنے کی عادت نہیں ڈالنی چاہئے۔بعض صحابہ نے تو آنحضرت ﷺ کے اس طرح زور دے کر مانگنے کے بارہ میں اتنی احتیاط برتی ہے کہ ایک صحابی گھوڑے پر سوار جارہے تھے ان کے ہاتھ سے سانٹا گر گیا اترے گھوڑے کو ایک جگہ باندھا اور آ کے سانٹا پھر اٹھا لیا۔ایک مسافر راہ گیر اور بھی دیکھ رہا تھا اس نے کہا آپ نے یہ کیا کیا ہے مجھے کہتے آرام سے آپ کو گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے آپ کا سانٹا پکڑا دیتا۔اس پر آپ دیتا۔اس صلى الله نے فرمایا کہ نہیں میں نے آنحضرت ﷺ سے خود یہ سنا ہے کہ مانگا نہ کرو۔پس میں اتنی سختی سے اس پر عمل کرتا ہوں کہ میں نے یہ بھی پسند نہیں کیا کہ اپنا گرا ہوا سانٹا کسی سے مانگ لوں حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا صدقہ دے کر آگ سے بچو خواہ آدھی کھجور خرچ کرنے کی استطاعت ہو۔الله حضرت ابوھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے ایک کھجور بھی پاک کمائی میں سے اللہ کی راہ میں دی اور اللہ تعالی پاک چیز کو ہی قبول فرماتا ہے تو اللہ تعالی اس کھجور کو دائیں ہاتھ سے قبول فرمائے گا اور اسے بڑھاتا چلا جائے گا یہاں تک کہ وہ پہاڑ جتنی ہو جائے گی جس طرح تم میں سے کوئی اپنے چھوٹے سے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے اور اسے بڑا جانور بنا دیتا ہے۔(بخارى كتاب الزكوة باب اتقو النار لو بشق تمرة) (بخارى كتاب الزكواة باب الصدقة من كسب طيب) اب اس میں پیشِ نظر رکھنا چاہئے کہ کوئی کھجور یہ تو نہیں کہ واقعہ بڑھ رہی ہے پہاڑ کی طرح ہو رہی ہے اور جنت میں وہ کھجور کا پہاڑ کسی کو مل جائے گا یہ سارے آنحضرت ﷺ کے نصائح کے طریق ہیں اور مراد یہ ہے کہ ایک کھجور اگر پہاڑ جتنی ہو سکتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی خاطر خلوص کے ساتھ قربانی کرنے والے کو اتنی برکت دے گا جیسے کھجور اور پہاڑ کا فرق ہوتا ہے۔اتنی زیادہ برکات اس کو عطا ہونگی۔الله حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دو شخصوں کے سوا کسی پر رشک نہیں کرنا چاہئے ایک وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے اسے راہ حق میں خرچ کر دیا دوسرے وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے سمجھ دانائی اور علم وحکمت دی جس کی مدد سے وہ لوگوں کے فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو (بخارى كتاب الزكواة باب انفاق المال في حقه) سکھاتا بھی ہے۔پس مال کی عطا کے ساتھ علم کی عطا بھی ہے اور قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے اور احادیث نبوی سے