خطبات وقف جدید — Page 526
526 حضرت خلیفتہ المسیح الرابع ہے اور غیر معمولی زور ہے اور پھر مالی قربانی پر بھی زور ہے۔جس کی ضرورت پیش آئے گی کیونکہ اب وقف جدید کے آئندہ سال کا اعلان بھی ہونے والا ہے۔صلى الله حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضور ﷺ کو حجۃ الوداع الله کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے سنا۔حضور ﷺ فرما رہے تھے کہ اللہ تعالی سے ڈرو اور پانچوں وقت کی نمازیں پڑھو۔تو یہ پانچ وقت کی نماز کا جو سبق ہمیں رمضان نے دیا ہے یہ جمعۃ الوداع نہیں حجۃ الوداع کے موقع پر آنحضور ﷺ کی آخری نصیحت تھی جو مسلمانوں نے سنی اور اسی نصیحت کے متعلق یہ بھی فرمایا جو صلى الله حاضر ہے وہ غیر حاضر کو آگے پہنچا دے۔(ترمذی کتاب الجمعة باب ما ذكر في فضل الصلوة) سوانحضور ﷺ کے اس ارشاد کی تعمیل میں اس نصیحت کو آپ لوگوں تک اب پہنچارہا ہوں اور بری الذمہ ہو رہا ہوں کہ نمازوں کی حفاظت کریں۔یہاں رسول اللہ ﷺ نے تہجد پر زور نہیں دیا کیونکہ اصل پانچ نمازیں ہیں جو فرض ہیں۔فرائض کی بات ہو رہی تھی ،تہجد اس کے علاوہ ہے اور حضور اکرم ﷺ کی سنت سے ثابت ہے کہ ہمیشہ بلا ناغہ آپ نے تہجد پڑھی ہے۔پھر فرماتے ہیں ”ایک مہینے کے روزے رکھو اپنے اموال کی زکوۃ دو اور جب میں کوئی حکم دوں اس کی اطاعت کرو اگر تم ایسا کرو گے تو اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا خدا کی رضا کی خاطر جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا اجر تمہیں ضرور ملے گا۔(بخاری کتاب الایمان باب انما الاعمال بالنيات) حضرت ابو کبشہ انماری سے مروی ہے کہ انھوں نے آنحضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تین چیزوں کے بارے میں میں قسم کھا کر تمہیں بتاتا ہوں انھیں اچھی طرح یا درکھوصدقہ بندے کے مال میں سے کچھ بھی کمی نہیں کرتا۔یہ وہم ہے کہ صدقہ سے مال میں کمی آتی ہے۔اللہ ہزار طریقے سے صدقہ دینے والوں کیا موال میں برکت ڈال دیتا ہے اور کمی کی بجائے کئی طریقوں سے اس کو بڑھاتا ہے۔وہ لوگ جن کو مالی قربانی کی عادت ہے وہ جانتے ہیں کہ کئی قسم کے اخراجات ہی ہیں جو ہونے والے ہوتے ہیں وہ ٹل جاتے ہیں اور مالی قربانی کی برکت سے انسان کے اموال ہمیشہ بڑھتے ہیں کبھی بھی کم نہیں ہوئے۔پھر فرمایا جب بندے پر ظلم کیا جائے اور وہ صبر سے کام لے تو اللہ تعالیٰ اسے اور عزت بخشتا ہے پھر فرمایا جس نے سوال کرنے کا دروازہ کھولا اللہ تعالیٰ اس کے لئے فقر و محتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔(ترمذی کتاب الزهد باب ماجاء مثل الدنيا مثل اربعة نفر)